لندن – پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے، برطانیہ نے تین ریفربشڈ رائل میرینز لینڈنگ کرافٹ ایئر کشن (لائٹ) — جنہیں LCAC(L) کے نام سے جانا جاتا ہے — پاکستان نیوی کے حوالے کر دیے ہیں۔ اس اسٹریٹجک معاہدے میں پرزہ جات اور سروس سپورٹ بھی شامل ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان سمندری تعاون کو مضبوط بنانے کی ایک نئی کوشش ہے۔
یہ ہوورکرافٹ اصل میں 2021 میں سروس سے ہٹائے گئے تھے، جنہیں ساؤتھ ہیمپٹن کی فرم گرفن میرین سپورٹ نے 2022 میں دفاعی سازوسامان کی برآمدات کے حکومتی ادارے ڈیفنس ایکوپمنٹ اینڈ سپورٹ (DE&S) کے معاہدے کے تحت دوبارہ قابلِ استعمال بنایا۔ DE&S کی بوٹس ٹیم نے بحالی کا کام سرانجام دیا، جبکہ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدہ DE&S ایکسپورٹس اینڈ سیلز ٹیم نے مکمل کیا۔
یہ LCAC(L) کرافٹ زمین اور سمندر دونوں پر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور خاص طور پر ساحلی نگرانی، امدادی کارروائیوں، اور آفات کی صورت میں فوری رسپانس کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔
لندن میں ایک خصوصی تقریب میں، جس میں دونوں ممالک کے سینئر عسکری و دفاعی حکام شریک تھے، DE&S کے ہیڈ آف ایکسپورٹس اینڈ سیلز، کموڈور رچرڈ ویلی نے معاہدے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
“یہ معاہدہ پاکستان کے ساتھ ہماری طویل دفاعی شراکت کا تسلسل ہے۔ یہ پاکستان نیوی کی امفیبیئس صلاحیتوں کو مضبوط کرے گا اور برطانیہ کے دفاعی بجٹ کے لیے بھی مالیاتی فوائد لائے گا۔”
پاکستان نیوی کے ترجمان نے بھی اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا:
“پاکستان نیوی برطانیہ کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ یہ ہوورکرافٹ ہماری میری ٹائم سیکیورٹی اور انسانی امدادی کارروائیوں میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔”
پاکستان نیوی ماضی میں بھی ایسے کرافٹس کا استعمال کر چکی ہے، اور یہ نئے یونٹس اس کی آپریشنل صلاحیتوں میں مزید وسعت لائیں گے — خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں زمینی ساخت پیچیدہ ہو اور کثیر النوع کارروائیوں کی ضرورت ہو۔
علاوہ ازیں، گرفن میرین سپورٹ ان کرافٹس کی دیکھ بھال اور تکنیکی معاونت فراہم کرے گی تاکہ ان کی طویل المدتی افادیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈین پاؤنٹنی، جو کہ کمپنی کے سربراہ ہیں، نے اس معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا:
“ہمیں دونوں بحری افواج کی معاونت پر فخر ہے۔ یہ معاہدہ پرانے دفاعی سازوسامان کو اتحادی افواج کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی ایک کامیاب مثال ہے۔”
دفاعی ماہرین اس پیش رفت کو ایک ایسے رجحان کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس میں برطانیہ اپنے زائد عسکری اثاثے خطے کے اتحادیوں کو منتقل کر کے اجتماعی سیکیورٹی کو فروغ دے رہا ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان نیوی کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا بلکہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے — جو باہمی تعاون، صلاحیت سازی اور مشترکہ علاقائی مفادات پر مبنی ہو گا