کراچی – پاکستان کے صنعتی شعبے کی بحالی کی ایک ممکنہ کوشش کے طور پر، روس نے کراچی میں ایک نئی اسٹیل مل کے قیام کے لیے پاکستان کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل دینے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی روسی عہدیدار نے اس منصوبے کی سرکاری طور پر تصدیق کی ہے۔
حالیہ دنوں عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کراچی میں روس کے قونصل جنرل اندری وی فیڈوروف نے بتایا کہ دونوں ممالک تکنیکی و سفارتی سطح پر بات چیت کے مرحلے میں ہیں، تاکہ منصوبے کا فریم ورک طے کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا مقصد پاکستان کی مفلوج اسٹیل انڈسٹری میں نئی جان ڈالنا ہے۔
“آخری مذاکرات 27 مئی کو ہوئے تھے، اور ہم حتمی معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔ ہمارے تکنیکی ماہرین پہلے ہی مجوزہ سائٹ کا جائزہ لے چکے ہیں، اور ایک اور ٹیم جلد روانہ ہوگی تاکہ تیاریوں کو حتمی شکل دی جا سکے،” فیڈوروف نے بتایا۔
یہ نیا صنعتی منصوبہ کراچی کے نواح میں موجود پاکستان اسٹیل ملز (PSM) کی جگہ لے گا، جو 1970 کی دہائی میں سوویت یونین کی مدد سے تعمیر کی گئی تھی۔ ایک دور میں قومی خود انحصاری کی علامت سمجھی جانے والی یہ مل 2015 سے بند پڑی ہے، جس کی بڑی وجوہات سیاسی مداخلت، ناقص انتظام اور بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے ہیں۔
مالی سال 2024 کے اختتام تک پاکستان اسٹیل ملز کو مجموعی طور پر 255.8 ارب روپے (902 ملین ڈالر) کا نقصان ہو چکا تھا، جب کہ اس پر واجب الادا قرضے 359.9 ارب روپے (1.27 ارب ڈالر) تک جا پہنچے تھے—باوجود اس کے کہ یہ ادارہ عملی طور پر بند ہے، اس میں اب بھی 3,500 سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں۔
فیڈوروف کے مطابق، روسی اور پاکستانی ماہرین اس وقت ایک "باہمی مفاد پر مبنی منصوبہ بندی” پر متفق ہونے کے قریب ہیں۔
“یہ بات واضح ہے کہ ایک نئی فیکٹری تعمیر ہونی چاہیے،” انہوں نے کہا۔ “اب دونوں ممالک کے ماہرین کو مل کر تعمیراتی تفصیلات طے کرنی ہیں۔”
اگرچہ ابھی تک تعمیرات کے آغاز کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی، تاہم فیڈوروف نے عندیہ دیا کہ معاہدہ رواں موسمِ گرما میں متوقع ہے۔
“بات چیت میں موسمِ گرما کا ذکر ہوا تھا… اور اب جبکہ ہم گرمیوں میں ہیں، تو مجھے امید ہے کہ جلد مثبت پیش رفت ہوگی اور معاہدہ طے پا جائے گا۔”
روسی قونصل جنرل نے سرمایہ کاری کی ممکنہ مالیت ظاہر کرنے سے گریز کیا، مگر ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک باہمی مفاد کے حامل معاہدے تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اس صنعتی تعاون کو نئی جہت دے سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو اپنی زبوں حال معیشت کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری اور صنعتی بحالی کی اشد ضرورت ہے۔ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ نہ صرف کراچی کے صنعتی منظرنامے کو بدل سکتا ہے بلکہ قومی معیشت کے لیے بھی ایک نئی راہ ہموار کر سکتا ہے