پاکستان میں انٹرنیٹ سہولیات بہتر بنانے کے لیے تین نئی سب میرین کیبلز نصب کی جائیں گی

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، شزا فاطمہ خواجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اپنے موجودہ نیٹ ورک میں تین نئی سب میرین کیبلز کا اضافہ کرنے جا رہا ہے، جس سے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام آبار ہے میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ آئی ٹی کا کہنا تھا کہ آج کی دنیا میں کوئی ملک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ صرف پچھلے ایک سال کے دوران مزید ایک کروڑ موبائل صارفین قومی نیٹ ورک سے جڑے ہیں، جس کے بعد ملک میں موبائل استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً 20 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل آبادی نہ صرف بڑی سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر رہی ہے بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی نیا در کھول رہی ہے۔

شزا فاطمہ نے مزید کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں ڈیٹا کے استعمال میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ آٹھ لاکھ خواتین نے پہلی بار موبائل انٹرنیٹ استعمال کیا، جو ڈیجیٹل شمولیت کے لیے نہایت حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ اسی دوران پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں بھی 19 فیصد کا اضافہ ہوا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بڑھتی ہوئی کنیکٹیویٹی معیشت پر مثبت اثر ڈال رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت ایک پانچ سالہ حکمتِ عملی "کنیکٹ 2030” شروع کرنے جا رہی ہے جس کا مقصد ملک بھر میں انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینا ہے۔ فی الحال پاکستان عالمی انٹرنیٹ سے سات سب میرین کیبلز کے ذریعے منسلک ہے، لیکن تین مزید کیبلز شامل ہونے سے یہ نظام مزید مضبوط ہو جائے گا۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ فائبر آپٹک انٹرنیٹ کا استعمال اب بھی محدود ہے اور اس کی ترویج کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں حکومت نے سی ڈی اے کی حدود میں رائٹ آف وے چارجز ختم کر دیے ہیں جبکہ ریلوے اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ساتھ بھی ایسے چارجز میں نرمی لانے پر کام جاری ہے تاکہ فائبر آپٹک کا پھیلاؤ تیز ہو سکے۔

شزا فاطمہ نے یہ بھی یاد دلایا کہ تھری جی اور فور جی خدمات پہلی بار مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں متعارف کرائی گئیں، جس سے ملک کے ڈیجیٹل سفر کو نئی سمت ملی۔ ٹیلی کام سیکٹر کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر کام کر رہا ہے جو مکمل طور پر استعمال ہو چکا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت رواں سال ایک نیا اسپیکٹرم آکشن کرانے جا رہی ہے، جس میں 600 میگا ہرٹز سے زیادہ اسپیکٹرم شامل ہوگا۔ ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف انڈسٹری کی رکاوٹیں دور کرے گا بلکہ ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار کو ڈھائی گنا تک بڑھا دے گا

More From Author

فیصل آباد میں نیا ایئرپورٹ تعمیر کرنے کا فیصلہ

جعلی کرنسی کا نیٹ ورک بے نقاب، کراچی میں 60 لاکھ روپے مالیت کے نوٹ برآمد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے