پاکستان آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے، کسی کا دباؤ قبول نہیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار

اسلام آباد: وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ایک خودمختار خارجہ پالیسی رکھتا ہے اور کوئی بھی ملک، چاہے وہ امریکا جیسا قریبی اتحادی ہی کیوں نہ ہو، پاکستان پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے امریکا کے ساتھ خوشگوار تعلقات ضرور ہیں، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسلام آباد ہر امریکی پالیسی کی حمایت کرے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا، "یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان امریکا کے اقدامات پر واضح مؤقف اختیار نہیں کرتا۔ جب امریکا نے ایران کے تین نیوکلیئر سائٹس پر حملہ کیا، تو پاکستان نے کھل کر اس کی مذمت کی۔ ہم دوستی کے نام پر غلط کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے۔”

امریکا-ایران کشیدگی پر پاکستان کا مؤقف

وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا نے اپنی 45 سالہ پالیسی کو ترک کرتے ہوئے پہلی بار براہِ راست ایران پر حملہ کیا، جس میں B-2 بمبار طیاروں کے ذریعے جدید بنکر بسٹر بموں کا استعمال کیا گیا۔ اس اقدام پر دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔

پاکستان نے فوری اور دوٹوک ردعمل دیتے ہوئے نہ صرف ان حملوں کی مذمت کی بلکہ ایران کے جوابی حملے کو بھی ان کا حق قرار دیا۔ ڈار نے کہا، "ہمیں معلوم تھا کہ ایران خاموش نہیں رہے گا، اور اس نے قطر میں امریکی اڈے کو نشانہ بنا کر عزت کے ساتھ اس بحران سے باہر نکلنے کا راستہ اپنایا۔”

انہوں نے بتایا کہ ایران نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا، اور ایرانی پارلیمنٹ میں صدر ابراہیم رئیسی کے خطاب کے دوران "پاکستان کا شکریہ” کے نعرے بھی لگائے گئے۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں ایران کی سفارتی تنہائی روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔

پردے کے پیچھے سفارتکاری

وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ اس کشیدگی کے دوران پاکستان نے پردے کے پیچھے اہم سفارتکاری کی۔ جب صورتحال سنگین ہوئی تو پاکستانی آرمی چیف نے، واپسی کے دوران، اسلام آباد کی تجویز پر استنبول میں قیام کیا جہاں ترک صدر رجب طیب اردوان سے اعلیٰ سطحی ملاقات ہوئی۔

اس ملاقات میں آرمی چیف، وزیر خارجہ ڈار اور پاکستانی سفیر شامل تھے، جبکہ ترک وفد میں صدر اردوان، وزیر خارجہ، انٹیلی جنس چیف اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔ ملاقات کا محور ایران کی صورتحال اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنا تھا۔

ڈار نے کہا کہ ایران نے پاکستان کو آگاہ کیا تھا کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن اگر اشتعال دلایا گیا تو خاموش نہیں رہے گا — اور قطر میں امریکی اڈے پر حملہ اسی بات کا عملی ثبوت تھا۔

کشمیر، بھارت اور پاکستان کا سفارتی مؤقف

وزیر خارجہ نے مسلم اُمہ سے متعلق پاکستان کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی کوششوں سے او آئی سی کے کشمیر پر رابطہ گروپ کا اجلاس ممکن ہوا — جو ایک اہم سفارتی کامیابی تھی۔

بھارت کے حوالے سے ان کا مؤقف بالکل واضح تھا: "ہم بات چیت کے لیے کسی کے در پر نہیں جا رہے۔ نہ ہی ہم کسی سے درخواست کریں گے کہ وہ بھارت کو ہم سے بات کرنے پر راضی کرے۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے — چاہے وہ دہشتگردی ہو، کشمیر ہو یا سندھ طاس معاہدہ۔ "دنیا میں دو سو سے زائد ممالک ہیں، اگر دونوں ممالک سنجیدہ ہوں تو کسی تیسرے ملک میں بات چیت ممکن ہے۔”

خودمختار خارجہ پالیسی کا عزم

اختتام پر اسحاق ڈار نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی صرف اپنے قومی مفاد پر مبنی ہے۔ "ہم کسی کے دباؤ میں آکر فیصلے نہیں کریں گے۔ ایران ہو، کشمیر ہو یا خطے میں امن — ہم ہمیشہ درست مؤقف کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔” وزیر خارجہ کے بیانات مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی صورتِ حال اور عالمی سفارتی تناؤ کے تناظر میں پاکستان کے متوازن اور خودمختار سفارتی رویے کی غمازی کرتے ہیں

More From Author

تحریک انصاف کو بڑا قانونی دھچکا، مخصوص نشستوں کا عدالتی فیصلہ کالعدم قرار

آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت نے گیس کے فکسڈ چارجز میں 50 فیصد اضافہ کر دیا، چینی درآمد پر فیصلہ مؤخر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے