سعودی عرب میں پیش آنے والے ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں تین پاکستانی محنت کش مشتاق احمد، امداد اللہ اور بخت منیر خان جان کی بازی ہار گئے۔ ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا کے علاقے کاکڑ سے تھا، اور یہ سب اپنے گھر والوں کی مدد کے لیے دیارِ غیر میں روزگار کی تلاش میں گئے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اُس وقت پیش آیا جب یہ تینوں ساتھی کام پر جا رہے تھے۔ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔ تاہم ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود زخم اتنے سنگین تھے کہ وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ان کی وفات کی خبر گھر پہنچتے ہی علاقے میں کہرام مچ گیا۔ اہلِ خانہ، رشتہ دار اور مقامی لوگ سخت صدمے کی حالت میں ہیں اور سب نے تینوں مرحومین کو محنتی اور اپنے خاندان کا سہارا قرار دیا۔
سعودی عرب میں قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد میتوں کی پاکستان واپسی کا انتظام کیا گیا، جس میں کمیونٹی کے افراد اور مقامی حکام نے اہم کردار ادا کیا۔
جب ان کی میتیں گاؤں پہنچیں تو لوگوں کی بڑی تعداد انہیں وصول کرنے کے لیے جمع ہوگئی۔ ہر طرف غم اور افسوس کا ماحول تھا۔ نمازِ جنازہ میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی، اور بعد ازاں تینوں کو آہوں اور سسکیوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
مقامی عمائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غمزدہ خاندانوں کی مدد کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ بیرونِ ملک محنت کرنے والے پاکستانی کن مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور ان کی جدائی کا درد ان کے گھر والوں کے لیے کتنا بڑا صدمہ ہوتا ہے۔