فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آج باضابطہ طور پر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، جس کے تحت وہ ایک ہی وقت میں چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) اور نئے قائم کیے گئے چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کے عہدے پر فرائض سرانجام دیں گے۔ ان کی یہ تعیناتی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2025 کے نافذ ہونے کے بعد عمل میں آئی ہے، جو ملکی عسکری قیادت کے ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لاتا ہے۔
نئے قانون کے مطابق، آرمی چیف اب پانچ سال کی مدت کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر بھی خدمات انجام دیں گے۔ CDF کی ذمہ داریوں اور اختیارات کا تعین وفاقی حکومت کرے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، اس مشترکہ منصب کا مقصد تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی بہتر بنانا، مشترکہ آپریشنل منصوبہ بندی کو مضبوط کرنا اور جدید عسکری چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ملک کی دفاعی تیاریوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
ترمیمی بل کے تحت سب سے بڑی تبدیلی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CJCSC) کے عہدے کا خاتمہ ہے، جو ماضی میں تینوں افواج کے درمیان رابطے اور کوآرڈینیشن کا سب سے بڑا منصب تھا۔
اس عہدے کی جگہ کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا نیا منصب تشکیل دیا گیا ہے، جس کی مدتِ ملازمت تین سال ہوگی اور اس کا تقرر COAS/CDF کی سفارش پر کیا جائے گا۔ اس کا مقصد دفاعی فیصلوں کو مؤثر بنانا اور اسٹریٹجک معاملات میں تاخیر کو کم کرنا ہے۔
یہ اصلاحات پاکستان کی عسکری قیادت کے ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئے نظام سے فیصلہ سازی مزید تیز ہوگی، افواج کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہوگا اور دفاعی انتظامی ڈھانچہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو جائے گا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دو اہم عہدے سنبھالنے کے بعد توقع ہے کہ مسلح افواج اب زیادہ متحد اور مربوط قیادت کے تحت کام کریں گی۔