راولپنڈی – 11 جولائی 2025
پاکستان کی عسکری قیادت نے بھارتی انٹیلیجنس کے زیرِ اثر کام کرنے والے دہشت گرد عناصر کے خلاف مکمل اتحاد اور حکمتِ عملی کے ساتھ فیصلہ کن کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ اعلان جنرل ہیڈکوارٹر (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں منعقدہ 271ویں کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران کیا گیا، جس کی صدارت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف نے کی۔
اجلاس کا آغاز حالیہ دہشت گرد حملوں میں شہید ہونے والے افسران و جوانوں کی مغفرت کے لیے دعا سے کیا گیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق یہ حملے بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں کی کارستانی ہیں۔
"شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی”
آئی ایس پی آر کے مطابق اعلیٰ سطحی اجلاس میں انسدادِ دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلح افواج کی اولین ترجیح ہے، اور موجودہ حکمتِ عملی بھارت کے حمایت یافتہ نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑنے پر مرکوز ہے۔
اجلاس میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ پہلگام واقعے میں بھارت کی ناکامی کے بعد دشمن عناصر کی سرگرمیوں میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خاص طور پر "فتنہ الخوارج” اور "فتنہ الہندوستان” جیسے گروپوں کو ملک میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ایک سینئر سیکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، “یہ صرف دہشت گرد گروپ نہیں، بلکہ ایک منظم منصوبے کا حصہ ہیں جو پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔”
سفارتی محاذ: ریاض سے واشنگٹن تک
فوجی میدان کے ساتھ ساتھ پاکستان کی عسکری قیادت نے سفارتی محاذ پر بھی متوازن اور سرگرم کردار ادا کرنے کا اشارہ دیا۔ اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف کے وزیرِ اعظم کے ہمراہ ایران، ترکی، سعودی عرب، آذربائیجان اور متحدہ عرب امارات کے حالیہ دوروں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان دوروں کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنا اور علاقائی سیکیورٹی پر ہم آہنگی پیدا کرنا بتایا گیا۔
اسی طرح، فیلڈ مارشل منیر کے امریکہ کے اہم دورے کا بھی جائزہ لیا گیا، جہاں انہوں نے اعلیٰ امریکی قیادت سے ملاقاتوں میں پاکستان کا مؤقف کھل کر بیان کیا، خصوصاً علاقائی کشیدگی، انسداد دہشت گردی اور بدلتے ہوئے عالمی اتحادوں کے تناظر میں۔
اندرونی و بیرونی سیکیورٹی چیلنجز پر غور
اجلاس میں ملکی اور علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔ مشرق وسطیٰ، ایران میں ہونے والی پیش رفت، اور دنیا بھر میں طاقت کے استعمال کے بڑھتے رجحان کو خاص توجہ دی گئی۔
شرکاء نے خود انحصاری پر مبنی دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور قومی اتحاد کو مضبوط کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش روایتی اور ہائبرڈ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اندرونی یکجہتی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
بھارت کے بیانات پر ردعمل
حال ہی میں بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے دیے گئے بیانات کو آرمی چیف نے “بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت خطے کا “سیکیورٹی فراہم کنندہ” بننے کے خواب میں بلاک سیاست کے ذریعے دو طرفہ مسائل کو عالمی سطح پر گھسیٹنے کی کوشش کر رہا ہے، جسے پاکستان مسترد کرتا ہے۔
جدیدیت اور تینوں افواج کی ہم آہنگی
کانفرنس میں پاکستان آرمی کی جاری جدیدیت اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تیار کردہ حکمت عملیوں کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں سائبر، معلوماتی اور پانچویں نسل کی جنگی صلاحیتیں شامل ہیں۔
چیف آف آرمی اسٹاف نے پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ ہم آہنگی کو سراہا اور کہا کہ تینوں افواج کی مشترکہ صلاحیت قومی دفاع کے لیے انتہائی اہم ہے۔
"ہم تیار بھی ہیں، اور آگے بڑھ بھی رہے ہیں”
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے اختتامی خطاب میں ایک پرامن لیکن پُرعزم پیغام دیا:
“ہم صرف تیار نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے خطرات کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔ دشمن یہ جان لے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔”
تجزیہ
کور کمانڈرز کانفرنس کا لب و لہجہ واضح طور پر پُراعتماد اور دوٹوک تھا۔ اندرونی سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ پاکستان نے خطے میں اپنے مؤقف کو واضح اور موثر انداز میں پیش کرنے کی حکمتِ عملی بھی اختیار کی ہے۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیوں کے تناظر میں آئندہ مہینے پاکستان کی قومی سلامتی حکمتِ عملی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔