پاکستان، افغانستان اور ازبکستان تاریخی ریلوے معاہدے کے قریب پہنچ گئے

اسلام آباد: جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی اور ٹرانزٹ روابط کو ازسرِنو متعین کرنے والا ایک بڑا منصوبہ اب عملی شکل اختیار کرنے کے قریب ہے، کیونکہ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان ایک سہ فریقی ریلوے منصوبے پر تاریخی معاہدہ کرنے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

یہ پیشرفت پاکستان کے چین میں تعینات سفیر، خلیل ہاشمی، نے سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی ورلڈ کے پروگرام نیوزروم میں گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ریلوے منصوبہ خطے میں تجارت، توانائی کی ترسیل اور عوامی روابط کے لیے "گیم چینجر” ثابت ہو سکتا ہے۔

خلیل ہاشمی کے مطابق یہ منصوبہ ازبکستان کو افغانستان کے راستے پاکستان سے جوڑے گا، جس سے وسطی ایشیائی ریاستوں کو پاکستان کی بندرگاہوں — گوادر اور کراچی — تک براہِ راست اور مؤثر رسائی حاصل ہو جائے گی۔ اس راہداری کا مقصد سامان، مسافروں اور توانائی کے وسائل کی ترسیل کو سہل اور تیز بنانا ہے، جو اس خطے میں کاروباری لین دین کا انداز ہی بدل دے گا۔

اس اقدام کو مزید تقویت دینے کے لیے پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِخارجہ، اسحاق ڈار، آج کابل کے دورے پر موجود ہیں، جہاں وہ افغان حکام سے اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران "ازبکستان-افغانستان-پاکستان (UAP) ریلوے منصوبے” پر مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کریں گے۔

تقریباً 4.8 ارب ڈالر لاگت کے اس عظیم منصوبے کے تحت 573 کلومیٹر (کچھ ذرائع کے مطابق 760 کلومیٹر) طویل ریلوے لائن تعمیر کی جائے گی، جو ازبکستان اور پاکستان کے درمیان مال برداری کے وقت کو پانچ دن تک کم اور اخراجات میں 40 فیصد تک کمی کا باعث بنے گی۔ 2030 تک اس راہداری کے ذریعے ہر سال 1.5 کروڑ ٹن سامان کی نقل و حمل کی توقع کی جا رہی ہے، جو اس خطے میں ایک نئی اقتصادی شہ رگ کا کردار ادا کرے گی، جہاں برسوں سے لاجسٹک اور سیاسی رکاوٹیں حائل رہی ہیں۔

یہ ریلوے لائن نہ صرف سامان کی ترسیل میں مدد دے گی بلکہ مسافروں کی آمد و رفت کے لیے بھی کارآمد ہوگی، جس سے سیاحت، مزدوروں کی نقل مکانی اور عوامی روابط کو نئی جہت ملے گی۔

واضح رہے کہ یہ منصوبہ اچانک نہیں آیا، بلکہ اس پر کئی سالوں سے بات چیت جاری ہے۔ اس سلسلے میں پہلی سہ فریقی مفاہمتی یادداشت فروری 2021 میں ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں طے پائی تھی۔ اگرچہ افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال اور تینوں ممالک میں ریلوے نظام کے تکنیکی فرق جیسے چیلنجز اب بھی موجود ہیں، مگر اس کے باوجود منصوبے میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ UAP ریلوے منصوبہ نہ صرف علاقائی انضمام کی کوششوں سے ہم آہنگ ہے بلکہ جنوبی و وسطی ایشیا کی معاشی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہو گیا، تو یہ خطے کے لیے ترقی، استحکام اور باہمی تعاون کی ایک نئی راہ کھول سکتا ہے

More From Author

وزیرِاعظم شہباز شریف کا کسانوں کے لیے آسان قرضوں کی پالیسی تیار کرنے کا حکم

وزیر مذہبی امور کا انکشاف: عراق، ایران اور شام جانے والے 40 ہزار پاکستانی زائرین کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے