ٹرمپ اور پی ٹی آئی: غلط امیدیں اور سیاسی حقیقتیں

گزشتہ چھ ماہ میں پاکستان اور امریکہ دونوں کی سیاسی فضاء اس تیزی سے بدلی ہے کہ پی ٹی آئی کی اوورسیز تنظیمیں اس کا اندازہ تک نہ لگا سکیں۔ امریکہ میں موجود پی ٹی آئی کے کئی کارکنان اور رہنما اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عمران خان کے لیے کوئی بڑا کردار ادا کریں گے۔ لیکن آج وہ امیدیں مایوسی میں بدل چکی ہیں۔

جنرل سید عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران عمران خان کا ذکر ہوا یا نہیں، یہ اب بھی ایک معمہ ہے۔ مگر جو چیز بالکل واضح ہے، وہ ہے اس ملاقات کے بعد چھا جانے والی خاموشی۔ نہ ٹرمپ نے کچھ کہا، نہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے، اور نہ ہی امریکی محکمہ خارجہ نے عمران خان کی رہائی پر کوئی بیان دیا۔

یہ خاموشی ان لوگوں کے لیے تکلیف دہ رہی جو ٹرمپ کو عمران خان کا ممکنہ نجات دہندہ سمجھتے تھے۔ وہی ٹرمپ جنہوں نے کبھی خان کو "انتہائی مقبول اور ایک عظیم کھلاڑی — شاید سب سے عظیم” کہا تھا، اب مکمل طور پر لاتعلق نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ جاوید انور، وہ پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین جنہیں خان کا زبردست حامی اور ریپبلکن پارٹی کا بڑا ڈونر سمجھا جاتا تھا، وہ بھی اب منظر سے غائب ہیں۔

جاوید انور کی حقیقت

جاوید انور کبھی ٹرمپ کے قریبی حلقوں تک رسائی رکھتے تھے۔ 2017 میں جب صدر ٹرمپ نے کیپیٹل روٹونڈا میں خصوصی تقریب کے ذریعے حلف اٹھایا تو وہ واحد پاکستانی نژاد شخصیت تھے جنہیں اندر مدعو کیا گیا۔ موسم کی شدت کی وجہ سے وہ خود تو شریک نہ ہو سکے، مگر اپنے بیٹے اور بہو کو بھیج کر علامتی شرکت ضرور کی۔

ٹرمپ کی انتخابی مہم کو دیے گئے 20 لاکھ ڈالرز اور ریپبلکن پارٹی کو دیے گئے مزید 10 لاکھ ڈالرز نے انہیں سیاسی طور پر کافی اثرورسوخ دیا۔ یہی وہ تعلق تھا جس پر پی ٹی آئی یو ایس اے نے اپنی امیدیں باندھ لی تھیں۔ قاسم سوری، طاہر صادق، سجاد برکی اور عاطف خان جیسے کئی رہنما کوشش میں تھے کہ انور کے توسط سے کسی بڑے امریکی سیاسی ایونٹ کا حصہ بن سکیں، مگر واشنگٹن کی سردی اور سخت حفاظتی اقدامات نے ان کی ساری امیدیں توڑ دیں۔

پاکستان کی نمائندگی سفارتی انداز میں ہوئی — سفیر رضوان سعید شیخ کو سفارتی انکلیو میں جگہ ملی جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، جو اس وقت واشنگٹن میں موجود تھے، صرف عوامی جلسے میں شریک ہو سکے۔

2019 کی ملاقات: ایک لمحاتی اُمید

پی ٹی آئی اور ٹرمپ کے تعلق کی رومانویت دراصل 2019 کی اُس یادگار ملاقات سے جڑی ہے جب عمران خان نے کیپیٹل ون ایرینا میں تقریباً 13 ہزار پاکستانیوں سے خطاب کیا — ایک تاریخی لمحہ جو کسی پاکستانی رہنما کے حصے میں پہلی بار آیا تھا۔ اس پورے ایونٹ کی مالی معاونت جاوید انور نے کی — اسٹیج، بیک اسکرین، اور یہاں تک کہ نیویارک ٹائمز میں کشمیر پر ایک مکمل اشتہار بھی ان ہی کی جانب سے دیا گیا۔

اسی دورے میں جب عمران خان نے صدر ٹرمپ سے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا، تو ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم مودی نے انہیں ثالثی کی پیشکش کی تھی۔ ٹرمپ بولے، “مجھے حیرت ہوئی کہ یہ تنازع کتنے برسوں سے چل رہا ہے۔” عمران خان نے کہا، “اگر آپ نے یہ مسئلہ حل کیا، تو ایک ارب لوگ آپ کے لیے دعائیں کریں گے۔”

مگر یہ خوش فہمی دیرپا نہ رہی۔ بھارت نے فوری طور پر ثالثی کی تجویز کی تردید کر دی، اور یوں کشمیر پر امریکی مداخلت کی اُمیدیں دم توڑ گئیں۔ درحقیقت، ٹرمپ کی اصل توجہ افغانستان پر مرکوز تھی — نہ کشمیر پر، نہ پاکستان پر، اور نہ ہی عمران خان پر۔

تجارت کے وعدے، نتائج کے بغیر

اسی ملاقات میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو دس گنا تک بڑھا سکتا ہے۔ مگر حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔ ٹرمپ کے دور میں باہمی تجارت کا حجم 6.8 سے 7.3 ارب ڈالر کے درمیان رہا — جو اوباما کے دور سے کچھ خاص مختلف نہیں تھا۔ یہ صرف صدر جو بائیڈن کے دور میں ہوا کہ یہ حجم 9 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔

صاف ظاہر ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے وعدے محض بیانات تھے، حقیقی پالیسی تبدیلی نہیں۔

امریکی سیاست کا غلط اندازہ

پی ٹی آئی یو ایس اے کی قیادت نے امریکی سیاست کو جس انداز سے سمجھا، وہ بچگانہ حد تک سادہ تھا۔ ان کا خیال تھا کہ چند فنڈ ریزرز، کچھ خط اور کانگریس میں ایک دو بیانات امریکہ کی خارجہ پالیسی کو بدل سکتے ہیں۔ ہاں، انہوں نے کچھ دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کی رہائی میں کردار ضرور ادا کیا، لیکن یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں — یہ ہر ملک اپنے شہریوں کے لیے کرتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ تھا کہ انہوں نے یہ سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ امریکہ کی پالیسیز ذاتی تعلقات یا چند لاکھ ڈالر کے عطیات سے نہیں، بلکہ طویل المدتی قومی مفادات سے چلتی ہیں۔

ایک بکھرتی ہوئی تحریک

اب پی ٹی آئی یو ایس اے کی حالت واضح ہے — قیادت منتشر، مالی امداد سکڑتی ہوئی، اور کارکن مایوس۔ جاوید انور جیسے بڑے ڈونرز نے بھی خود کو الگ کر لیا ہے کیونکہ ان کے عطیات اکثر ذاتی تشہیر میں جھونک دیے گئے، عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر مہم نہیں بنی۔

واشنگٹن جیسے اہم مقام پر بھی پی ٹی آئی کوئی نمایاں مظاہرہ نہیں کر سکی۔ جنرل عاصم منیر کی امریکی دورے کے دوران موجودگی پر احتجاج کے دعوے صرف یوٹیوب تک محدود رہے، گراؤنڈ پر کوئی بڑی موجودگی نظر نہ آئی۔

اب صرف چند یوٹیوبرز باقی رہ گئے ہیں، جو قوم کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ وہی پرانے وعدے، وہی پرانی باتیں — جیسے بس خان کی رہائی ہونے ہی والی ہے، جیسے سنہری دن بس لوٹنے کو ہیں۔

آخری بات

سیاست دراصل perception (تاثر) اور timing (وقت) کا کھیل ہے۔ پی ٹی آئی نے دونوں محاذوں پر غلطیاں کیں۔ نہ ٹرمپ کبھی خان کے لیے آواز بلند کرنے والے تھے، نہ جاوید انور کا قریبی تعلق کوئی پالیسی تبدیلی لا سکتا تھا۔

آج جب پاکستان اور امریکہ ایک نئی نوعیت کے تعلق میں بندھ رہے ہیں — جس کی بنیاد ذاتی ہمدردیوں کی جگہ اسٹریٹجک حقیقتوں پر ہے — پی ٹی آئی کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

سوال اب یہ ہے: کیا پی ٹی آئی ماضی کے سحر سے نکل کر خود کو دوبارہ منظم کر پائے گی؟ یا یہ تحریک خوابوں کے اس ملبے تلے دب کر ختم ہو جائے گی جو کبھی پورے امریکہ میں گونجا کرتے تھے؟

More From Author

امریکی بمباری کے گہرے اثرات: ایران نے بالآخر جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا اعتراف کر لیا

یو ایس ایڈ پروگرامز کی جزوی بحالی: پاک امریکہ ترقیاتی تعلقات میں برف پگھلنے کا اشارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے