وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملک بھر میں بیماریوں کی بروقت نگرانی اور درست ڈیٹا کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں صحت سہولت پروگرام کے ڈیٹا سینٹر کے دورے کے دوران وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو ایک ایسا مربوط نظام درکار ہے جس میں صرف صحت کارڈ رکھنے والے نہیں بلکہ ہر شہری شامل ہو۔
انہوں نے تجویز دی کہ ایک یونیورسل میڈیکل ریکارڈ (UMR) سسٹم تشکیل دیا جائے، جس میں ہر پاکستانی شہری کا شناختی کارڈ نمبر ہی اس کا میڈیکل ریکارڈ نمبر ہو۔
"یہ نظام پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا،” مصطفیٰ کمال نے کہا۔ "ڈاکٹر ملک کے کسی بھی حصے میں مریض کی مکمل میڈیکل ہسٹری تک فوری رسائی حاصل کر سکیں گے، جس سے تشخیص اور علاج دونوں میں تیزی اور بہتری آئے گی۔”
اگر یہ نظام نافذ ہوتا ہے تو پاکستان کا صحت کا شعبہ عالمی ڈیجیٹل ہیلتھ معیار کے قریب آ جائے گا۔ قومی شناختی کارڈ کے ساتھ میڈیکل ریکارڈز کو جوڑنے سے نہ صرف ڈیٹا کے موجودہ خلا کو پُر کیا جا سکے گا، بلکہ طبی غلطیوں میں کمی، اور وبائی امراض کے خلاف بروقت اقدامات ممکن ہوں گے۔
بریفنگ میں موجود طبی ماہرین نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس سسٹم کی بدولت نہ صرف مریضوں کی سہولت میں اضافہ ہوگا بلکہ حکومتی سطح پر بہتر پالیسی سازی میں بھی مدد ملے گی۔
وزیر صحت نے زور دیا کہ اس منصوبے میں شفافیت، ڈیٹا سیکیورٹی اور عوامی رسائی کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ اس ضمن میں صوبائی محکمہ صحت سے مشاورت کا عمل بھی جاری ہے۔
پاکستان میں صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں میں یہ مجوزہ یونیورسل میڈیکل ریکارڈ سسٹم ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، جو عوام کے لیے منصفانہ، مؤثر اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کا ذریعہ بنے گا۔