اسلام آباد – نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پاکستان بھر میں بچوں اور خاندانی ریکارڈ کے حوالے سے شناختی دستاویزات کی پالیسی میں اہم تبدیلیاں کر دی ہیں۔
نئی پالیسی کے تحت اب بچوں کے پاسپورٹ کے لیے ب فارم قابل قبول نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے، والدین کو اپنے بچوں کے لیے چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (CRC) حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ نادرا حکام کے مطابق، اس تبدیلی کا مقصد ہر بچے کو ایک منفرد اور تصدیق شدہ شناخت دینا ہے، تاکہ ڈیٹا کا تحفظ بہتر بنایا جا سکے۔
مزید برآں، نادرا نے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) کو قانونی حیثیت دے دی ہے، جس کا استعمال اب وراثتی معاملات اور عدالتوں میں بھی کیا جا سکے گا۔ پہلے یہ صرف ریکارڈ رکھنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
نئے FRC میں مختلف خاندانی ساخت کو مدنظر رکھا گیا ہے، جس میں درج ذیل تفصیلات شامل ہیں:
- والدین اور بہن بھائی
- میاں بیوی اور ان کے بچے
- ایک سے زائد شادیاں کرنے والے مرد، جن کی ہر شادی کا الگ ریکارڈ درج ہوگا
نادرا نے نئی پالیسی میں تین قسم کے خاندانی تعلقات بھی متعارف کرائے ہیں:
- الف (Alpha) – پیدائش کے ذریعے
- بے (Beta) – شادی کے ذریعے
- گاما (Gamma) – گود لینے کے ذریعے
اگر کسی فرد کا کوئی خاندانی رکن نادرا کے ریکارڈ میں شامل نہیں تو اسے باقاعدہ رجسٹر کروانا ہوگا۔ غلط یا نامکمل معلومات کو درست کرنے کے لیے نادرا دفاتر یا موبائل ایپ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اب FRC حاصل کرنے کے لیے امیدوار کو ایک تحریری حلف نامہ بھی دینا ہوگا، جس میں وہ اپنی دی گئی معلومات کی درستگی کی تصدیق کرے گا۔ نیا FRC سسٹم خاص طور پر ان افراد کے لیے مفید ہے جن کی ایک سے زائد شادیاں ہیں، کیونکہ اب ہر تعلق کو الگ سے واضح انداز میں درج کیا جائے گا، جو پرانے نظام میں ممکن نہیں تھا۔