میکرون کا تاریخی دورۂ برطانیہ، غزہ اور یوکرین پر مشترکہ اقدام کی اپیل

لندن:
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے برطانیہ کے تین روزہ تاریخی سرکاری دورے کا آغاز منگل کے روز کیا، جس کا مقصد لندن اور پیرس کے درمیان تعلقات کو دوبارہ مضبوط بنانا اور عالمی مسائل — خاص طور پر غزہ، یوکرین، ماحولیاتی تبدیلی اور تجارت — پر قریبی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ یہ کسی بھی یورپی یونین کے سربراہِ مملکت کا بریگزٹ کے بعد برطانیہ کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جو ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

برطانوی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے اپنے غیرمعمولی اور علامتی خطاب میں، میکرون نے اتحاد اور ہم آہنگی کا پیغام دیا۔ اُنہوں نے برطانیہ سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے فرانس کے ساتھ کھڑا ہو اور یوکرین کی روسی جارحیت کے خلاف حمایت جاری رکھے۔

“برطانیہ اور فرانس کو ایک بار پھر دنیا کو یہ دکھانا ہوگا کہ ہمارا اتحاد فرق ڈال سکتا ہے،” میکرون نے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے کہا، جس پر ایوان میں تالیاں بجیں۔ “ہمیں کندھے سے کندھا ملا کر آگے بڑھنا ہوگا۔”

شاہی خیرمقدم اور دوستی کا نیا باب

میکرون کو شاہ چارلس سوم کی دعوت پر برطانیہ لایا گیا، جہاں اُن کا شاہی پروٹوکول کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ ولی عہد شہزادہ ولیم اور شہزادی کیتھرین کے ہمراہ وہ گھوڑا گاڑی میں ونڈزر کاسل پہنچے، جہاں بعد ازاں انہوں نے ویسٹ منسٹر میں پارلیمنٹ کا رخ کیا۔

اسی شام ونڈزر کے تاریخی ہال میں ایک پرشکوہ عشائیہ کا اہتمام کیا گیا، جہاں شاہ چارلس نے "Entente Cordiale” (1904 کے تاریخی اتحاد) کو نئی جہت دیتے ہوئے "Entente Amicale” — یعنی "دوستانہ اتحاد” — کا اعلان کیا۔

“ہم اس قدیم اور تاریخ سے بھرپور مقام پر فرانس کے ساتھ اپنے نئے رشتے کو سلام پیش کرتے ہیں، جو صرف خوشگوار نہیں بلکہ سچی دوستی پر مبنی ہے،” شاہ نے کہا، جب کہ مہمانوں میں معروف شخصیات جیسے ایلٹن جان اور مِک جیگر بھی شامل تھے۔

غزہ، یوکرین اور امن کی راہ

پارلیمنٹ سے خطاب میں میکرون نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے برطانیہ سے واضح اپیل کی، جسے انہوں نے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی واحد راہ قرار دیا۔

“غزہ کھنڈر بن چکا ہے اور مغربی کنارے پر روزانہ حملے ہو رہے ہیں۔ ایسے میں دو ریاستی حل کا تصور پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو گیا ہے،” میکرون نے کہا۔ “فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا محض ایک علامتی عمل نہیں، بلکہ ایک تزویراتی (اسٹریٹیجک) ضرورت ہے۔”

میکرون نے یوکرین کے لیے یورپ کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا اور کہا کہ برطانیہ اور فرانس مل کر ایک مشترکہ فوجی فورس تشکیل دینے پر کام کر رہے ہیں، جو جنگ بندی کی صورت میں یوکرین کی مدد کرے گی۔

انہوں نے چین اور امریکہ پر حد سے زیادہ انحصار کو خطرناک قرار دیتے ہوئے یورپی اقوام پر زور دیا کہ وہ اپنی معیشتوں اور سماج کو "ڈی رسک” کریں اور ایک متوازن عالمی حکمت عملی اپنائیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور بچوں کے آن لائن تحفظ پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ثقافتی و اقتصادی رشتوں کو وسعت

سیاست سے ہٹ کر، میکرون نے تعلیم، تحقیق اور فنون سے وابستہ افراد کے لیے دونوں ممالک میں آزادانہ آمد و رفت کی تجاویز پیش کیں۔ ایک بڑی ثقافتی پیش رفت کے طور پر برطانیہ نے فرانس کو اینگلو-سیکسن اور وائکنگ دور کے نوادرات عاریتاً دینے پر آمادگی ظاہر کی، جبکہ فرانس پہلی بار 900 سال بعد تاریخی "بایو ٹیپسٹری” برطانیہ بھیجے گا۔

اقتصادی لحاظ سے، فرانسیسی توانائی کمپنی EDF نے مشرقی انگلینڈ میں جوہری توانائی منصوبے میں £1.1 بلین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا — جسے دونوں حکومتوں نے باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا۔

سخت مذاکرات متوقع

دورے کے دوسرے روز صدر میکرون اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے درمیان اہم سیاسی مذاکرات ہوں گے۔ سب سے اہم مسئلہ: انگلش چینل عبور کر کے آنے والے پناہ گزینوں کی ریکارڈ تعداد۔

اسٹارمر نے تجویز پیش کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک ریٹرن معاہدہ ہو، جس کے تحت غیر قانونی پناہ گزینوں کو فرانس واپس بھیجا جائے اور برطانیہ جائز درخواستوں والے افراد کو قبول کرے۔ تاہم فرانس اس پر آمادہ نہیں، اور اس کا کہنا ہے کہ ایسا معاہدہ یورپی یونین کی سطح پر طے ہونا چاہیے۔

اس کے باوجود، دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے آثار نمایاں ہیں۔ جمعرات کو میکرون اور اسٹارمر یوکرین کے صدر زیلنسکی، جرمن چانسلر فریڈرش مرز، اور اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے ساتھ ایک مشترکہ کال میں شرکت کریں گے تاکہ یوکرین کی حمایت پر مزید اقدامات کیے جا سکیں۔ جیسے جیسے میکرون کا دورہ جاری ہے، برطانیہ اور فرانس اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ بریگزٹ کے بعد پیدا ہونے والی خلیج کو ختم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ یورپ اس وقت جن چیلنجز سے دوچار ہے — جنگ، مہاجرین، معاشی غیر یقینی صورتحال — ایسے میں ان دو پرانے اتحادیوں کی نئی قربت عالمی منظرنامے پر ایک اہم پیغام بن چکی ہے

More From Author

اسلام آباد کی عدالت کا مبینہ "ریاست مخالف” مواد پر 27 یوٹیوب چینلز بند کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ شہری کی بازیابی کے بعد درخواست خارج کر دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے