سوات سے کراچی تک بچوں سمیت درجنوں افراد جاں بحق، طوفانی بارشوں، سیلاب اور آسمانی بجلی سے تباہی
پاکستان میں مون سون کا حالیہ سلسلہ جان لیوا ثابت ہو رہا ہے، جہاں اتوار کی شام تک ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 45 ہو گئی ہے۔ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 13 مزید افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب کہ تیز بارشوں کا سلسلہ ملک کے شمالی پہاڑی علاقوں سے لے کر جنوبی ساحلی پٹی تک جاری ہے۔
سوات کی پہاڑیوں میں اچانک آنے والے سیلاب ہوں یا لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے کے واقعات — حالیہ بارشوں نے نہ صرف کمزور انفراسٹرکچر کو بے نقاب کر دیا ہے بلکہ آفات سے نمٹنے کے نظام پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے، جس پر شہری اور دیہی علاقوں دونوں میں الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
پنجاب سب سے زیادہ متاثر
پنجاب میں صورتحال خاصی سنگین ہے جہاں بدھ سے اب تک 13 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں سے آٹھ معصوم بچے ہیں، جو چھت یا دیوار گرنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے، جب کہ باقی افراد سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئے۔
اتوار کے روز صرف پنجاب میں آٹھ مزید اموات اور 27 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ریسکیو 1122 نے کی ہے۔ لاہور کے علاقے شریف پورہ (احمد ٹاؤن) میں ایک کچی دیوار گرنے سے 25 سالہ عظمیٰ اور اس کی سات ماہ کی بیٹی علینہ جاں بحق ہو گئیں، جب کہ 45 سالہ رانا محمود زخمی حالت میں سروسز اسپتال منتقل کیے گئے۔
بینڈ روڈ کے قریب عبد اللہ ویڈنگ ہال کے سامنے ایک خطرناک بورڈ گرنے سے موٹر سائیکل سوار 50 سالہ شاہد موقع پر جاں بحق ہو گیا۔ اس کی بیوی جمیلہ اور ایک بچہ زخمی ہوئے، جنہیں جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
لاہور کے دیگر علاقوں — نین سکھ چوک، پِنڈی قبرستان (شاہدرہ)، قطر بند روڈ، اور دھرم پورہ — میں دیواریں اور چھتیں گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ پیکو روڈ پر بس اسٹاپ پر بیٹھے ایک شہری پر پتھر گرنے کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔
دیہی اضلاع میں آسمانی بجلی اور حادثات کی زد میں نوجوان
گوجرانوالہ میں دو نوجوان علیحدہ علیحدہ مقامات پر آسمانی بجلی کا نشانہ بنے — 25 سالہ حزیرہ کو نوشہرہ ورکاں کے پھامے سوراں میں بجلی نے جاں بحق کر دیا، جب کہ 20 سالہ زین نند پور (بالے والی) میں کرنٹ لگنے سے دم توڑ گیا۔
شیخوپورہ میں 10 سالہ سحر خان پور گاؤں میں دیوار گرنے سے جاں بحق ہو گئی۔ دیگر حادثات میں کوٹ عبدالملک، کتھالا ورکاں، چھاپا مانران، اور حافظ آباد روڈ پر دیواریں اور چھتیں گرنے سے کئی افراد زخمی ہوئے۔
قصور، ننکانہ صاحب، اور مریدکے کے دیہی علاقوں میں بھی متعدد افراد زخمی ہوئے، جب کہ ریسکیو ٹیمیں مسلسل متحرک رہیں۔ سڑکوں سے گرے درختوں کو ہٹانے اور ٹریفک بحال رکھنے کے لیے ٹیمیں متحرک رہیں، خاص طور پر کنال روڈ، ماڈل ٹاؤن، سمن آباد، اور دھرم پورہ جیسے علاقوں میں۔
لاہور میں واسا الرٹ پر
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں واسا کو ہائی الرٹ پر رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے تمام زیرِ زمین گزرگاہوں (انڈر پاسز) پر ڈریجنگ مشینوں، عملے اور جنریٹرز کی موجودگی یقینی بنانے کا حکم دیا تاکہ کہیں بھی پانی کھڑا نہ ہونے پائے۔
بارش کے باعث لکشمی چوک، قرطبہ چوک، مزنگ، شاہدرہ، اسلام پورہ، باغبانپورہ، گلشن راوی سمیت کئی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ واسا تمام ہنگامی اقدامات کرے، اور یہ یقینی بنایا جائے کہ ڈریجنگ کے لیے جنریٹرز کو ایندھن کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
مزید خطرات باقی
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ بارشوں کا سلسلہ ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے۔ شہریوں کو احتیاط برتنے، بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے، اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں 1122 پر فوری کال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
جوں جوں زمین پانی سے سیراب ہو رہی ہے، کچے مکانات اور کمزور بنیادی ڈھانچے کے باعث مزید جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ اگر بروقت اور مربوط حکمتِ عملی اختیار نہ کی گئی، تو مون سون کی یہ تباہی مزید بڑھے گی۔