لیاری میں 11 خطرناک عمارتیں خالی کروا لی گئیں، متاثرین کے لیے عارضی پناہ گاہوں پر غور

کراچی:
لیاری میں حالیہ عمارت گرنے کے واقعے کے بعد، سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے بدھ کو تصدیق کی کہ 11 خطرناک رہائشی عمارتیں حفاظتی اقدامات کے تحت خالی کروا لی گئی ہیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے بتایا کہ حکومت سندھ نے فوری طور پر ان عمارتوں کے خلاف کارروائی کی جنہیں ساختی طور پر غیر محفوظ قرار دیا گیا تھا۔
"یہ عمارتیں انسانی زندگی کے لیے خطرہ بن چکی تھیں، ان کو خالی کرانا ناگزیر تھا،” انہوں نے کہا۔

متاثرہ مکینوں کے مستقبل سے متعلق سوال پر وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت ان خاندانوں کو عارضی رہائش فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے جو واقعی مستحق ہیں۔
"ہم صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ان لوگوں کی نشاندہی کی جا سکے جنہیں فوری مدد کی ضرورت ہے،” انہوں نے کہا۔

تاہم، شرجیل میمن نے واضح کیا کہ حکومت کا ان عمارتوں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا کوئی ارادہ نہیں۔
"یہ نجی املاک ہیں، اور حکومت نجی زمین یا عمارتوں کے لیے ادائیگی کی پابند نہیں،” ان کا کہنا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان عمارتوں کی ازسرنو تعمیر نجی ڈویلپرز ہی کریں گے۔
"ہم اس حوالے سے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (ABAD) اور دیگر متعلقہ فریقین سے مشاورت کریں گے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے،” شرجیل میمن نے کہا۔ یہ اقدامات شہر میں بوسیدہ انفرااسٹرکچر اور غیر قانونی تعمیرات پر بڑھتی ہوئی عوامی تشویش کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مزید عمارتوں کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے

More From Author

چین نے 74 ممالک کے لیے ویزا فری انٹری کا اعلان کر دیا — مگر پاکستان ایک بار پھر فہرست سے باہر

اسلام آباد کی عدالت کا مبینہ "ریاست مخالف” مواد پر 27 یوٹیوب چینلز بند کرنے کا حکم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے