کراچی: لیاری کے دل میں پیش آنے والا ایک اندوہناک واقعہ اب ایک باقاعدہ فوجداری تحقیقات کا رخ اختیار کر چکا ہے، جہاں حکام نے غیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے دفتر پر چھاپہ مار کر نو سینئر افسران کو حراست میں لے لیا ہے، جن میں ایک ریٹائرڈ ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔
یہ گرفتاریاں 4 جولائی کو پیش آنے والے اُس دلخراش حادثے کے بعد عمل میں آئیں، جب لیاری کے علاقے بغدادی میں فدا حسین شیخا روڈ پر واقع پانچ منزلہ رہائشی عمارت زمین بوس ہو گئی۔ اس سانحے میں 27 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ 11 افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے نے عوام میں شدید غم و غصے کو جنم دیا اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز ہوا تاکہ ذمے داروں کو کٹہرے میں لایا جا سکے۔
ایف آئی آر درج، احتساب کا آغاز
بدھ کے روز پولیس نے عمارت کے مالکان اور ایس بی سی اے کے سینئر افسران کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کی، جو اب پولیس کی جانب سے سیل کر دی گئی ہے۔ حکام اس بات کی چھان بین کر رہے ہیں کہ اتنی خستہ حال عمارت کو تعمیر اور آباد ہونے کی اجازت کس نے دی اور کس نے آنکھیں بند کیں۔
گرفتار ہونے والے افراد میں شامل ہیں:
- عرفان نقوی — ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل، ایس بی سی اے
- ضرغام شاہ
- آصف رضوی — ریٹائرڈ ڈائریکٹر
- چالیس صدیقی
- اشفاق کھوکھر
- فہیم صدیقی — ڈپٹی ڈائریکٹر
- ذوالفقار شاہ — اسسٹنٹ ڈائریکٹر
- فہیم مرتضیٰ
جبکہ عمارت کے مالکان کو بھی حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے۔
غیر قانونی تعمیرات اور نگرانی کی ناکامی
تحقیقات سے جڑے ذرائع کے مطابق، ایس بی سی اے کے گرفتار افسران سے لیاری میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث ہونے اور بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرنے پر تفتیش کی جا رہی ہے۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان افسران نے نہ صرف اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں، بلکہ ممکنہ طور پر رشوت کے عوض غیر قانونی تعمیرات کی پشت پناہی بھی کی۔
ایک تحقیقاتی افسر کے مطابق:
"یہ صرف غفلت نہیں، یہ اس نظام کی گہرائیوں تک بگاڑ کی نشان دہی کرتا ہے جو اندر سے گل چکا ہے۔”
انسانی المیہ اور ریاستی ردعمل
جبکہ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کو سپرد خاک کر رہے ہیں اور زخمی افراد علاج کے مراحل سے گزر رہے ہیں، اس حادثے کا انسانی پہلو ناقابلِ بیان ہے۔ عینی شاہدین نے ایسے مناظر بیان کیے جن میں رہائشی ملبے تلے اپنے عزیزوں کو ڈھونڈتے نظر آئے۔
سانحے کے فوری بعد، گورنر سندھ نے ریلیف اقدامات کا آغاز کیا۔ گورنر ہاؤس کی جانب سے لیاری میں انہدام کا شکار ہونے والی خستہ حال عمارتوں کے متاثرہ خاندانوں کو روزانہ کی بنیاد پر کھانے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ قدم قابلِ تحسین ہے، مگر اسے برسوں سے جاری ناقص نگرانی، بے قابو تعمیرات اور انتظامی بدعنوانی کے ایک وقتی مرہم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کیا کراچی واقعی "کمزور بنیادوں” پر تعمیر ہوا ہے؟
کراچی عرصے سے غیر قانونی اور غیر منصوبہ بند تعمیرات کا شکار رہا ہے، خاص طور پر لیاری جیسے کم آمدنی والے علاقوں میں، جہاں بلڈرز قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر منافع کماتے ہیں، اور نگران ادارے اکثر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔
یہ واقعہ شاید وہ موڑ ہو جس سے شہروں کی منصوبہ بندی کے حوالے سے بنیادی اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکے۔ اب پہلی بار الزام صرف نجی بلڈرز پر نہیں بلکہ اُن اداروں پر بھی لگ رہا ہے جن کی ذمہ داری عوام کی حفاظت ہے۔
تحقیقات جاری ہیں اور مزید افراد کے نام سامنے آ سکتے ہیں، مگر ایک بات واضح ہے:
یہ صرف ایک عمارت گرنے کا واقعہ نہیں — یہ اُس نظام کی ناکامی کا نوحہ ہے جسے اب ازسرنو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔