برطانیہ اور 27 دیگر ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں عام شہریوں، خاص طور پر بچوں، کے "غیر انسانی قتل” کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
یہ تقریباً 400 الفاظ پر مشتمل بیان ایک "فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی” کا مطالبہ کرتا ہے، اور خبردار کرتا ہے کہ غزہ میں شہریوں کی تکلیف ناقابلِ برداشت سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اگرچہ بیان میں امریکا کے ساتھ مل کر قائم کردہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا، لیکن اسرائیل کی موجودہ امدادی حکمتِ عملی کو "خطرناک، عدم استحکام پیدا کرنے والی، اور غزہ کے لوگوں کی انسانی وقار کے منافی” قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے: "ہم امداد کی بوند بوند فراہمی اور ان بےگناہ شہریوں، بشمول بچوں، کے غیر انسانی قتل کی مذمت کرتے ہیں جو صرف پانی اور خوراک جیسی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ 800 سے زائد فلسطینی امداد لینے کی کوشش کے دوران قتل ہو چکے ہیں۔”
بیان اسرائیلی حکومت کی جانب سے امداد کی فراہمی پر عائد پابندیوں کو ناقابل قبول قرار دیتا ہے اور اسے بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کہتا ہے۔ اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل فوری طور پر اقوام متحدہ اور امدادی تنظیموں کو محفوظ اور مؤثر طریقے سے اپنا کام کرنے دے۔
بیان میں غزہ کی پوری آبادی کو ایک نام نہاد "ہیومینٹیرین سٹی” میں جبری طور پر منتقل کرنے کے اسرائیلی منصوبے پر بھی شدید تنقید کی گئی ہے، جسے سابق اسرائیلی وزیرِاعظم ایہود اولمرٹ نے "کیمپ میں قید کرنے” کے مترادف قرار دیا ہے۔ اس منصوبے کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح، "E1” سیٹلمنٹ منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کی بھی سخت مذمت کی گئی ہے، کیونکہ یہ ممکنہ فلسطینی ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر دے گا، جو کہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور دو ریاستی حل کی سنگین نفی ہے۔
بیان میں مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر میں تیزی اور فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے پرتشدد حملوں کے اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے، اور اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
آخر میں بیان میں کہا گیا ہے: "ہم فریقین اور عالمی برادری پر زور دیتے ہیں کہ اس ہولناک تنازعے کے خاتمے کے لیے متحد ہوں، اور فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کو ممکن بنائیں۔ مزید خونریزی کا کوئی جواز نہیں۔ ہم امریکا، قطر اور مصر کی سفارتی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور جنگ بندی اور خطے میں امن کے سیاسی راستے کے لیے مزید اقدامات کرنے کو تیار ہیں۔”