غزہ لہو لہو: امداد کے انتظار میں موت، بھوک کی گرفت میں بستی

قاہرہ: جو دن کھانے کے ایک نوالے کی امید پر شروع ہوا تھا، وہ غزہ میں اتوار کو ایک اور المناک سانحے میں بدل گیا۔ شمالی غزہ میں اقوامِ متحدہ کے امدادی ٹرکوں کے گرد جمع ہونے والے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فائرنگ نے قیامت ڈھا دی۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق کم از کم 115 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ درجنوں شدید زخمی ہیں—جن میں سے کئی اسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، جہاں سہولتیں ختم ہو چکی ہیں اور عملہ تھک چکا ہے۔

یہ کوئی فضائی حملہ نہ تھا۔ اس بار موت بندوق کی گولیوں کی شکل میں آئی۔

گویا بھوک کی اذیت ہی کافی نہ تھی، اب آٹے کی ایک بوری کے لیے کھڑا ہونا بھی موت کو دعوت دینا بن چکا ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ کیسے افرا تفریٰ میں گولیاں چلی اور مرد، عورتیں، یہاں تک کہ بچے بھی زمین پر گرتے گئے—بس صرف کھانے کی امید میں۔

جنوبی غزہ میں ایک اور امدادی مرکز کے قریب مزید چھ افراد مارے گئے۔ یوں صرف ایک دن میں اسرائیلی بمباری اور فائرنگ سے 88 فلسطینی شہید ہوئے۔ یہ تعداد اب اُس طویل جنگ کے اعداد و شمار میں شامل ہو چکی ہے، جو 21 ماہ سے غزہ کو بربادی کی طرف دھکیل رہی ہے۔


ایک اور ہجرت، ایک اور صدمہ

لاشیں ابھی گنی جا رہی تھیں کہ اسرائیل نے دیر البلح میں نئی پمفلٹ گرائیں—یہ وہ علاقہ ہے جہاں پہلے ہی لاکھوں بے گھر فلسطینی پناہ لے چکے تھے۔ پمفلٹ میں علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ چند ہی گھنٹوں میں ہوائی حملے ہوئے، تین گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ لوگ گھروں سے نکلنے لگے، ہاتھوں میں جو بچا کچھا سامان تھا وہ سمیٹا، اور ایک اور انجان سفر کی طرف روانہ ہو گئے۔

دیر البلح نے اب تک جو تھوڑی بہت پناہ دی ہوئی تھی، وہ بھی اب چھننے لگی ہے۔


بھوک کا سست زہر

جو عمارتیں بمباری سے سلامت بچ گئیں، وہاں بھوک نے ڈیرے ڈال دیے ہیں۔

اسپتال بچوں اور بڑوں سے بھرے ہیں—سب کمزور، لاغر، اور نقاہت سے نڈھال۔ کچھ سیدھا کھڑے بھی نہیں ہو سکتے۔ غزہ کی وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی حالات رہے تو سینکڑوں افراد عنقریب بھوک سے مر جائیں گے۔

اب تک کم از کم 71 بچے غذائی قلت سے جاں بحق ہو چکے ہیں، اور 60,000 سے زائد بچے شدید بھوک کی علامات کا شکار ہیں۔ ان کے جسم ہڈیوں کے ڈھانچے بن چکے ہیں۔ عالمی امداد نہ ہونے کے برابر ہے، اور راستے مسدود ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے بھی اتوار کے روز اپنی رپورٹ میں کہا کہ غزہ کے شہری بڑے پیمانے پر قحط کا سامنا کر رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ آٹا، چاول، تیل جیسی بنیادی اشیاء بھی نایاب ہو چکی ہیں۔ یہاں تک کہ بلیک مارکیٹ میں بھی کچھ نہیں بچا۔


بے رحم جنگ

دوحہ میں جنگ بندی کی بات چیت جاری ہے، مگر زمین پر کوئی امید باقی نہیں بچی۔ کچھ فلسطینیوں کا ماننا ہے کہ دیر البلح پر تازہ دباؤ حماس کو مذاکرات میں جھکانے کی کوشش ہے۔ لیکن جو لوگ بمباری، ہجرت اور بھوک سہہ رہے ہیں، اُن کے لیے سیاست محض ایک دردناک تماشہ لگتی ہے۔

ان کے لیے "معاہدہ” کوئی معنی نہیں رکھتا۔ وہ صرف زندہ رہنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔


پوپ کی درد بھری پکار

اتوار کے روز ویٹی کن کے گرمائی مرکز "کاسٹل گنڈولفو” سے پوپ لیو چہاردہم (Leo XIV) نے غزہ کی جنگ کو "بربریت” قرار دیتے ہوئے فوری طور پر جنگ بند کرنے کی اپیل کی۔

یہ اپیل اُس واقعے کے چند روز بعد آئی جس میں ایک کیتھولک چرچ پر اسرائیلی فضائی حملہ ہوا تھا، جہاں 600 سے زائد بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے تھے، جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ پوپ نے اس حملے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور "بلا تمیز طاقت کے استعمال” کی مذمت کی۔

اگلے ہی دن انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات بھی کی۔ مگر سفارت کاری، خوراک اور پناہ کی طرح، اب غزہ میں ناپید ہوتی جا رہی ہے۔


دنیا کہاں ہے؟

کیا ہماری انسانیت کا پیمانہ یہی ہے کہ روٹی کے انتظار میں بھی لوگ مارے جائیں؟

غزہ میں موت کے کئی روپ ہیں: میزائل، گولی، بھوک۔ نہ کوئی محفوظ مقام ہے، نہ کوئی محفوظ پناہ گاہ۔ حتیٰ کہ عبادت گاہیں بھی خون سے لت پت ہیں۔

اور پھر بھی لوگ زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مائیں دودھ ڈھونڈ رہی ہیں، بچے خوراک کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، خاندان لاپتہ پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اُمید باقی ہے—زخم خوردہ، کمزور، لیکن زندہ۔

لیکن سوال یہ ہے کہ… کب تک؟

 

 

More From Author

 

سفارتی تعلقات کی بحالی کی نوید: اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اہم ملاقات طے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے