سرحدوں سے آگے: پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے درمیان ریلوے منصوبے پر تاریخی معاہدہ

اسحاق ڈار کا دورہ کابل، خطے میں معاشی رابطوں کے فروغ کی سنجیدہ کوشش

اسلام آباد | 18 جولائی 2025

پاکستان، افغانستان اور ازبکستان نے جمعرات کے روز کابل میں ایک اہم اور تاریخی معاہدے پر دستخط کیے، جو تینوں ممالک کے درمیان ریلوے رابطے کے ایک بڑے منصوبے — ازبکستان-افغانستان-پاکستان (یو اے پی) ریلوے پروجیکٹ — کے لیے مشترکہ فزیبیلٹی اسٹڈی پر مشتمل ہے۔

کابل میں ہونے والی اس تقریب میں تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے، جہاں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیرِاعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔ ان کے ہمراہ افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی اور ازبکستان کے وزیرِ ٹرانسپورٹ بختیار سعیدوف بھی موجود تھے۔

یہ معاہدہ پاکستان کی وزارتِ ریلوے، افغانستان کی وزارتِ تعمیراتِ عامہ، اور ازبکستان کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے درمیان طے پایا — جو کئی برسوں سے جاری گفت و شنید کو عملی شکل دینے کی سمت ایک نمایاں پیش رفت ہے۔

ایک تزویراتی راہداری جو خطے کو جوڑ دے گی

یہ منصوبہ تقریباً 640 کلومیٹر طویل ریلوے لائن پر مشتمل ہے، جو ترمذ (ازبکستان) سے شروع ہو کر ہیراتن اور کابل کے راستے لوگر تک پہنچے گی، اور پھر پاکستان کے ضلع کرم میں خرلاچی کے مقام سے پاکستانی حدود میں داخل ہوگی۔

یہ ریلوے لائن وسطی ایشیا کے زمینی طور پر محصور ممالک کے لیے کراچی اور گوادر جیسے پاکستانی بندرگاہوں تک براہِ راست رسائی فراہم کرے گی، جس سے تجارتی نقل و حمل کی لاگت اور وقت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔

ایک اعلیٰ پاکستانی افسر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا:

“یہ منصوبہ صرف ریلوے کا نہیں — یہ پورے خطے کو جوڑنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، اور پائیدار امن و ترقی کی بنیاد رکھنے کا خواب ہے۔”

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یو اے پی ریلوے پروجیکٹ کا مقصد علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ کو فروغ دینا ہے، جس سے پورے جنوبی اور وسطی ایشیا میں استحکام، ترقی اور خوشحالی کو تقویت ملے گی۔

سفارتکاری کی نئی راہیں: اسحاق ڈار کی کابل میں ملاقاتیں

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا یہ تین ماہ میں دوسرا دورۂ کابل تھا، جس سے اسلام آباد کی سنجیدگی اور علاقائی انضمام کے لیے پختہ ارادے کا اظہار ہوتا ہے۔

دستخطوں سے قبل ایک سہ فریقی اجلاس میں اسحاق ڈار نے اپنے افغان اور ازبک ہم منصبوں کے ساتھ شرکت کی۔ اجلاس میں تینوں رہنماؤں نے علاقائی امن، معاشی ترقی، اور بنیادی ڈھانچے کے ربط کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

بعد ازاں، ڈار نے طالبان قیادت سے علیحدہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند، وزیر خارجہ امیر خان متقی، اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں میں سیکیورٹی، بارڈر مینجمنٹ اور تجارتی تعاون جیسے معاملات پر گہرائی سے گفتگو ہوئی، خاص طور پر ان منصوبوں کی رفتار بڑھانے پر جن کا تعلق علاقائی روابط سے ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسحاق ڈار کی افغان عبوری وزیر اعظم سے ملاقات اپریل 2025 میں ہونے والی سابقہ ملاقات کا تسلسل تھی۔ دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں اعلیٰ سطحی روابط کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

سلامتی کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا

اسحاق ڈار کی افغان قیادت سے گفتگو کے دوران بارہا اس بات پر زور دیا گیا کہ سیکیورٹی خدشات کو دور کیے بغیر ایسے کثیرالملکی منصوبے پائیدار نہیں ہو سکتے۔

وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے ملاقات کے دوران ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان اس بات کی توقع رکھتا ہے کہ علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے کہا:

“معاشی راہداریوں کی کامیابی کے لیے امن و امان بنیادی شرط ہے۔”

نئی امید، نیا دور: مستقبل کی جھلک

فریم ورک معاہدے پر دستخط کے بعد اب منصوبے کی فزیبیلٹی، مالی وسائل کی فراہمی اور تعمیری مراحل کا آغاز متوقع ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یو اے پی ریلوے منصوبہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) اور وسطی ایشیا کے علاقائی تعاون (CAREC) جیسے اقدامات سے منسلک ہو سکتا ہے۔

ایک علاقائی ماہر نے تبصرہ کیا:

“یہ منصوبہ امید کی کرن ہے — افغانستان کے لیے ایک ٹرانزٹ حب بننے کا موقع، ازبکستان کے لیے معاشی وسعت، اور پاکستان کے لیے تزویراتی گہرائی اور مضبوط علاقائی روابط کی کنجی۔”

جبکہ تینوں ممالک سفارتی سطح پر مزید قریب آ رہے ہیں، یو اے پی ریلوے صرف پٹریوں کا منصوبہ نہیں — یہ اس خطے میں انحصار، تعاون اور یکجہتی کی ایک نئی علامت بنتی جا رہی ہے، جسے برسوں تک صرف تنازعات اور تقسیم نے گھیر رکھا تھا۔

More From Author

چناب ڈیم کی جانب حکومتی نظر؛ آئی ایم ایف نے 1 فیصد واٹر سیس کی تجویز مسترد کر دی

راجاب بٹ نے پاکستان چھوڑ دیا، ماں کی اجازت کے بغیر وی لاگنگ سے کنارہ کشی کا اعلان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے