18 جولائی 2025 – اسلام آباد
تعلیم، ماحولیاتی تحفظ اور معاشی مساوات کو یکجا کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایک انقلابی اقدام کا اعلان کیا ہے: ملک بھر کے تمام تعلیمی بورڈز، بشمول فیڈرل بورڈ، کے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو مفت الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی۔
یہ اعلان وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس کا محور پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے فروغ سے متعلق تھا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ یہ اسکیم صرف نقل و حمل کی سہولت تک محدود نہیں، بلکہ یہ تعلیمی قابلیت کو سراہنے، ماحولیاتی بہتری کی جانب قدم اور معاشی مواقع پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
"ہماری ذہین نسل کو صاف اور مؤثر سفری سہولت دینا ایک بہتر، سرسبز پاکستان کی جانب قدم ہے”، وزیرِاعظم نے اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔
خواتین اور کم آمدنی والے طبقات کو ترجیح
شہباز شریف نے واضح ہدایات دیں کہ اس اسکیم کے تحت دی جانے والی گاڑیوں میں سے 25 فیصد کوٹہ خواتین کے لیے مخصوص ہوگا تاکہ تعلیم اور سفری سہولیات میں پائیدار صنفی برابری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بلوچستان کا حصہ بڑھا کر 10 فیصد کرنے کا حکم بھی دیا گیا — جو عام طور پر آبادی کے تناسب سے کم ہوتا ہے۔
اس منصوبے کا دائرہ صرف طلبہ تک محدود نہیں۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کم آمدنی والے افراد کو الیکٹرک رکشے اور لوڈرز دیے جائیں گے، تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں، ٹرانسپورٹ کا خرچ کم ہو، اور ایندھن کی درآمد پر انحصار کم کیا جا سکے۔
“یہ صرف تعلیم یا توانائی کی پالیسی نہیں، بلکہ معاشی خودمختاری کی مکمل حکمتِ عملی ہے،” ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے بتایا۔
قومی سطح پر بھرپور نفاذ، واضح اہداف
اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت ایک لاکھ سے زائد الیکٹرک بائیکس اور تین لاکھ الیکٹرک لوڈرز ملک بھر میں آسان اقساط اور سبسڈی پر فراہم کرے گی۔ اس سلسلے میں ایک مفصل ایکشن پلان بھی تشکیل دیا جا رہا ہے تاکہ شفاف اور منصفانہ تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔
منصوبے کے تحت الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے چار نئی بیٹری ساز کمپنیاں بھی پاکستان میں قائم کی جا رہی ہیں، جس سے صنعتی ترقی، مقامی روزگار اور درآمدات پر انحصار میں کمی متوقع ہے۔
شفافیت، معیار اور عوامی آگاہی پر زور
وزیرِاعظم نے واضح کیا کہ اسکیم کی کامیابی کے لیے سخت حفاظتی اور معیار کے اصول لاگو کیے جائیں گے۔ انہوں نے اسکیم کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی ویریفیکیشن کی بھی ہدایت کی۔
عوام میں شعور بیدار کرنے اور منصوبے تک آسان رسائی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ایک قومی سطح کی آگاہی مہم شروع کرے گی، تاکہ طلبہ، مزدوروں اور دیگر شہریوں کو اس سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی جا سکے۔
ایک سرسبز، ذہین پاکستان کی جانب پیش قدمی
ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات اور شہروں میں بڑھتی ہوئی ٹریفک کے پیش نظر، یہ منصوبہ نقل و حمل اور تعلیمی پالیسیوں میں ایک انقلابی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ مستقبل کی سواری کو صاف، منصفانہ اور دانشمندانہ ہونا چاہیے — اور اس کے مرکز میں طلبہ اور محنت کش شہری ہونے چاہئیں۔
اگر اس منصوبے کو ویسے ہی لاگو کیا گیا جیسے اس کا وژن پیش کیا گیا ہے، تو یہ محض ایک پالیسی نہیں، بلکہ ایک امید کی کرن ہے۔ اور ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں ہزاروں طلبہ، ترقی کی الیکٹرک رفتار پر سوار ہو کر ایک بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہوں۔