اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن (پی ٹی وی) کے مالی خسارے پورے کرنے کے لیے 11 ارب روپے کی سبسڈی کی منظوری دے دی ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب گزشتہ ماہ بجلی کے بلوں میں شامل 35 روپے ماہانہ ٹی وی فیس ختم کر دی گئی تھی، جس کے بعد سرکاری نشریاتی ادارہ شدید مالی بحران کا شکار ہوگیا تھا۔
منگل کے روز وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق ای سی سی نے فوری طور پر 3 ارب 80 کروڑ روپے جاری کرنے کی منظوری دی ہے، جب کہ باقی رقم مرحلہ وار ہر سہ ماہی میں فراہم کی جائے گی۔ یہ فنڈز ملازمین کی تنخواہوں، پنشن اور ادارے کے دیگر اخراجات کے لیے مختص ہوں گے تاکہ پی ٹی وی کی نشریات میں رکاوٹ نہ آئے۔
حکام نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ مالی امداد وقتی سہولت فراہم کرے گی، لیکن پی ٹی وی کو آہستہ آہستہ حکومتی سبسڈی پر انحصار کم کر کے خود کفالت کی جانب بڑھنا ہوگا۔ وزیر اعظم کے فیصلے کے بعد تین ماہ سے تنخواہیں اور پنشن رکی ہوئی تھیں، جس کے باعث ادارہ بحران میں مبتلا تھا۔ مالی سال 2025-26 کے بقیہ حصے میں پی ٹی وی کو ہر سہ ماہی 2 ارب 40 کروڑ روپے ملیں گے تاکہ ادارے کی سرگرمیاں جاری رہ سکیں۔
کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی اور بجلی کے نرخوں میں کمی
ای سی سی نے ان ہدایات کی بھی منظوری دی جن کے تحت قدرتی گیس پر چلنے والے کیپٹو پاور پلانٹس (CPPs) سے وصول کی جانے والی لیوی کا فائدہ بجلی کے صارفین کو دیا جائے گا۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین کے نرخوں میں کمی کرے گی۔
یہ اقدام "کیپٹو پاور پلانٹس لیوی ایکٹ 2025” کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد صنعتی صارفین کو دوبارہ قومی گرڈ سے بجلی استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت لیوی کی شرح ابتدائی طور پر 5 فیصد رکھی گئی تھی، جو یکم اگست 2025 سے 10 فیصد ہو چکی ہے۔ یہ شرح یکم فروری 2026 کو 15 فیصد اور اگست 2026 میں 20 فیصد تک بڑھا دی جائے گی۔
وزارت خزانہ کے مطابق لیوی سے حاصل ہونے والا فائدہ دو ماہ کی تاخیر کے بعد صارفین تک منتقل کیا جائے گا، اور نیپرا ہر ماہ اس کا تعین کرے گی۔
توانائی اور ریلیف کے دیگر اقدامات
اجلاس میں مشکے-تھیلیاں-تارو جبا وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے کے ٹیرف کی بھی منظوری دی گئی، جو آذربائیجان کے تعاون سے شروع کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف توانائی کے تحفظ کو یقینی بنائے گا بلکہ پاکستان اور باکو کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔
اس کے علاوہ ای سی سی نے گلگت بلتستان میں سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے 3 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری بھی دی۔ یہ رقم خیمے، ادویات، خوراک، تباہ شدہ ڈھانچے کی تعمیر نو اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی پر خرچ کی جائے گی۔ یہ فیصلہ وزیر اعظم کے حالیہ دورہ گلگت بلتستان کے دوران دی گئی ہدایات کی روشنی میں کیا گیا