وفاقی حکومت نے قومی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو تیز کرتے ہوئے ملک بھر میں قائم یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (USC) کو 31 جولائی تک مکمل طور پر بند کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ اعلامیے، جسے ریڈیو پاکستان نے نشر کیا، میں بتایا گیا کہ یہ اقدام ملک میں معاشی کارکردگی بہتر بنانے اور سرکاری اخراجات میں کمی لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
یاد رہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن 1971 میں قائم کی گئی تھی تاکہ کم آمدنی والے طبقے کو سستے داموں روزمرہ ضروریات کی اشیاء فراہم کی جا سکیں۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور مالی خسارے کی علامت بن گیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ادارے کو بند کرنے کے طریقہ کار اور آگے کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ یہ کمیٹی وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ہے تاکہ یوٹیلیٹی اسٹورز کے ملازمین کے لیے مناسب ‘رضاکارانہ علیحدگی اسکیم’ (VSS) اور اثاثوں کے مستقبل کے حوالے سے تجاویز دی جا سکیں۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق، "یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی تمام سرگرمیاں حکومت کی ہدایات کے مطابق 31 جولائی تک بند کر دی جائیں گی۔”
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں رضاکارانہ علیحدگی اسکیم کو منصفانہ، پائیدار اور مالی طور پر قابل عمل بنانے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس مقصد کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکریٹری کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جو ہفتے کے آخر تک اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
اجلاس میں یوٹیلیٹی اسٹورز کے ملازمین کے لیے واجبات، گولڈن ہینڈ شیک اور دیگر مراعات کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔ ساتھ ہی یہ فیصلہ کیا گیا کہ نجکاری کمیشن سے مشورہ لیا جائے گا کہ آیا ادارے کے اثاثے فروخت کیے جائیں یا کسی اور صورت میں نجکاری کے عمل کا حصہ بنایا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان معاشی اصلاحات کا تسلسل ہے جن پر عملدرآمد کی بارہا سفارش عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کی جانب سے کی جاتی رہی ہے۔ اگرچہ USC کی بندش بعض حلقوں میں تنقید کی زد میں بھی آ سکتی ہے، لیکن اس سے سرکاری وسائل کے ضیاع کو روکنے اور فنڈز کو مستحق طبقات کی طرف منتقل کرنے میں مدد ملے گی۔
یوٹیلیٹی اسٹورز کو ماضی میں متعدد آڈٹ رپورٹس، پارلیمانی کمیٹیوں اور میڈیا کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا رہا ہے، جن میں خریداری میں بے ضابطگی، اسٹاک مینجمنٹ میں ناکامی اور دیہی علاقوں میں سہولیات کی عدم دستیابی جیسے مسائل اجاگر کیے گئے تھے۔
اگرچہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ بندش اصلاحات کا لازمی حصہ ہے، لیکن اس فیصلے کے کم آمدنی والے خاندانوں اور ہزاروں ملازمین پر پڑنے والے اثرات پر تشویش برقرار ہے۔ آنے والے دنوں میں اس عمل کے بارے میں مزید وضاحت متوقع ہے جب ذیلی کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور حکومت اس اہم فیصلے کے اگلے مراحل سے متعلق حتمی اعلان کرے گی