کراچی، 26 اگست 2025 — جماعتِ اسلامی کراچی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار، 31 اگست کو وزیرِاعلیٰ ہاؤس کے سامنے ’’حقوق کراچی مارچ‘‘ کرے گی، تاکہ حکومت کی جانب سے شہر کے بگڑتے ہوئے حالات پر بے حسی کے خلاف آواز بلند کی جا سکے۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی کراچی، منعم ظفر نے کہا کہ ملک کا معاشی مرکز سمجھے جانے والا یہ شہر حالیہ بارشوں کے بعد تباہ حال ہے۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور شہر کی حالت دگرگوں ہے، مگر حکمرانوں کو اس بدترین صورتحال پر کوئی فکر لاحق نہیں۔ انہوں نے کہا، ’’حکمران شہر کی بگڑتی حالت کو دیکھ کر بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔‘‘
انہوں نے ڈرگ روڈ پر ہونے والے حالیہ ٹریفک حادثے کا ذکر کیا جس میں تین افراد جاں بحق ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کی خراب سڑکیں اور حکومتی غفلت ایسے سانحات کو بڑھا رہی ہیں۔ منعم ظفر نے مزید کہا کہ بارش ہوتے ہی کراچی کا نکاسیٔ آب کا نظام بیٹھ جاتا ہے۔ ’’کوئی ادارہ ریلیف کے لیے متحرک نظر نہیں آتا۔ کریم آباد انڈر پاس جسے دو برس میں مکمل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، آج بھی نامکمل ہے اور پانی سے بھرا ہوا ہے، جس سے دکاندار سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔‘‘
انہوں نے صحت کے شعبے کی صورتحال کو بھی ہدفِ تنقید بنایا اور کہا کہ عباسی شہید اسپتال کے پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں جبکہ ہاؤس آفیسرز کو گزشتہ چار ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں۔ ’’نہ تنخواہیں دی جا رہی ہیں اور نہ ہی کوئی اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کی حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔‘‘
امیر جماعتِ اسلامی کراچی نے کہا کہ ان حالات میں خاموش رہنا ممکن نہیں۔ ’’جماعتِ اسلامی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ 31 اگست کو سہ پہر 3 بجے پریس کلب سے وزیرِاعلیٰ ہاؤس تک مارچ کیا جائے گا تاکہ کراچی کے عوام کے حقوق کا مطالبہ کیا جا سکے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ شہر کے نالوں کی صفائی نہ ہونے کی ذمہ داری کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب پر عائد ہوتی ہے۔ ’’ہم نے باقاعدہ خط لکھ کر متنبہ کیا تھا کہ نالے صاف نہ کیے گئے تو شہری سیلاب کا خطرہ بڑھ جائے گا، مگر کوئی اقدام نہیں کیا گیا