تجارتی معاہدے اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث ین کی قدر میں اتار چڑھاؤ

اہم نکات:

  • جاپان کی امریکہ میں 550 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان، گاڑیوں پر محصولات 15 فیصد تک کم
  • محصولات پر غیر یقینی صورتحال نے کرنسی مارکیٹ کو بےچین رکھا ہوا ہے
  • جاپانی وزیر اعظم شیگرو اشیبا نے استعفے کی خبروں کی تردید کی

ٹوکیو/لندن، 23 جولائی (رائٹرز) – بدھ کو جاپانی ین کی قیمت میں خاصا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا کیونکہ ایک جانب امریکہ اور جاپان کے درمیان تجارتی معاہدے کی خبر آئی، تو دوسری طرف وزیر اعظم شیگرو اشیبا کے سیاسی مستقبل سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔

شروع میں، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے تجارتی معاہدے کا اعلان کیا تو ین ڈالر کے مقابلے میں 146.20 تک پہنچ گیا — جو کہ 11 جولائی کے بعد اس کی سب سے مضبوط سطح تھی۔ تاہم، یہ فائدہ اس وقت ختم ہوگیا جب ایسی خبریں آئیں کہ اشیبا اگلے ماہ مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ حالیہ انتخابات میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اشیبا نے استعفے کی خبروں کو "مکمل طور پر بے بنیاد” قرار دیا، جس کے بعد ین کچھ سنبھل گیا اور آخری بار 146.83 پر مستحکم رہا۔

یہ نیا معاہدہ، جو گاڑیوں کی درآمد پر محصولات کو کم کرتا ہے اور جاپان کو مزید پابندیوں سے محفوظ رکھتا ہے، نہ صرف معیشت بلکہ جاپان کے مرکزی بینک کی پالیسی پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

"یہ معاہدہ بینک آف جاپان کو رواں سال شرح سود بڑھانے کی گنجائش دیتا ہے،” ربوبینک میں ایف ایکس اسٹریٹیجی کی سربراہ جین فولی نے کہا۔ "یہ ین کے لیے مثبت ہے اور ڈالر کے مقابلے میں دوبارہ 150 کی سطح تک جانے کا امکان کم کر دیتا ہے۔”

تاہم، سیاسی غیر یقینی صورتحال اب بھی موجود ہے، جس کے باعث بینک آف جاپان محتاط رویہ اختیار کیے رکھے گا۔ "ویسے بھی کسی نے یہ توقع نہیں کی کہ وہ کوئی جلدی قدم اٹھائیں گے،” فولی نے مزید کہا۔

دوسری کرنسیوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ نہیں آیا کیونکہ محصولات پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور مارکیٹوں پر اس کے اثرات بھی واضح نہیں ہیں۔

امریکی ڈالر، جو کہ 2 اپریل کو ٹرمپ کی جانب سے وسیع محصولات کے اعلان کے بعد سے دباؤ میں ہے، اب بھی کمزور ہے، اگرچہ حالیہ ہفتوں میں اس رجحان میں کچھ کمی آئی ہے۔ یورو 0.1 فیصد کمی سے $1.1744 پر آگیا لیکن اب بھی رواں ماہ کے آغاز میں لگائے گئے چار سالہ بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ برطانوی پاؤنڈ معمولی اضافہ کے ساتھ $1.1354 پر پہنچ گیا۔

یورپی اسٹاک مارکیٹس میں، اس کے برعکس، اضافہ دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ جاپان کے ساتھ معاہدہ یورپی یونین کے ساتھ بھی معاہدوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ یورپی یونین کے مذاکرات کار بدھ کو واشنگٹن پہنچیں گے۔

یورپی سینٹرل بینک جمعرات کو اجلاس کرے گا، لیکن توقع ہے کہ وہ شرح سود کو برقرار رکھے گا۔

عالمی معیشت پر بہتر جذبات اور دھاتوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آسٹریلوی ڈالر نے بھی فائدہ اٹھایا، جو 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ $0.6581 پر پہنچ گیا، اگرچہ سرمایہ کار اب بھی محتاط ہیں۔

More From Author

مارک زکربرگ ہوائی میں اپنا خفیہ کمپاؤنڈ وسعت دے رہے ہیں — اس کا کچھ حصہ قبروں پر تعمیر ہو رہا ہے

ChatGPT اب روزانہ دنیا بھر میں 2.5 ارب پرامپٹس کا جواب دے رہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے