بھارت پاکستان پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتا” — اسحاق ڈار

ڈپٹی وزیراعظم کا ‘جعلی حملوں’ پر شدید ردعمل، علاقائی خودمختاری کے دفاع کا عزم

اسلام آباد — نمائندہ خصوصی سے

پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی اپنے مشرقی ہمسائے کی یکطرفہ شرائط مانے گا۔

انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد کی یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بھارت کو علاقائی سفارتی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے اور "دباؤ اور دھونس کی پالیسی ترک کرنے” کا مشورہ دیا۔

انہوں نے کہا، "بھارت پاکستان پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتا۔ اسے اپنی تزویراتی سوچ پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور دشمنی کو جواز دینے کے لیے جعلی واقعات کا سہارا لینا بند کرنا چاہیے۔”

اسحاق ڈار نے پلوامہ حملے کی مثال دیتے ہوئے بھارت پر الزام لگایا کہ اس نے اس واقعے کو ‘جعلی حملہ’ بنا کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ مہم چلائی۔

کشیدگی میں اضافہ

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں پہلگام میں ایک حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد پاک بھارت تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ بھارت نے فوری طور پر اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کیا۔

اس کے بعد بھارت نے یکے بعد دیگرے کئی سخت اقدامات اٹھائے، جن میں انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی، دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی بندش، ویزوں کی منسوخی اور واہگہ-اٹاری سرحد کی بندش شامل ہیں۔

اس کے نتیجے میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے دارالحکومتوں سے سفارتی عملہ کم کر دیا، جس سے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہوا۔

"پانی کو ہتھیار بنانا ناقابل قبول”

وزیر خارجہ نے پانی کے تنازع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو انڈس واٹر ٹریٹی یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔

انہوں نے کہا، "پانی ایک مشترکہ اثاثہ ہے جو بین الاقوامی معاہدے کے تحت تقسیم ہوا ہے۔ بھارت کی طرف سے اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔”

مسئلہ کشمیر اور علاقائی امن

اسحاق ڈار نے مسئلہ کشمیر کو خطے کا "مرکزی تنازع” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا پرامن حل عالمی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ پاکستان پرامن بقائے باہمی کے اصول پر قائم رہے گا۔

ایران اور غزہ کی صورتحال

عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور ایران کے "جائز موقف” کی حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے ایران کے جوہری مسئلے کے حل کے لیے بات چیت پر زور دیا اور غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی مظالم کی مذمت کی۔

وزیر اعظم کا بین الاقوامی عدالت کے فیصلے پر ردعمل

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے انڈس واٹر ٹریٹی پر مستقل ثالثی عدالت کے اضافی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے اصولی موقف کی بڑی کامیابی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا، "عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر نہ معاہدے کو معطل کر سکتا ہے، نہ ہی تنازعات کے حل کے نظام کو۔”

بلاول بھٹو کا سخت انتباہ

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی پانی کے مسئلے پر بھارت کو شدید انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت معاہدے کو تسلیم نہیں کرتا تو پاکستان ہر آپشن پر غور کرے گا — حتیٰ کہ جنگ پر بھی۔

سکھر میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے کہا، "بھارت کو فیصلہ کرنا ہوگا — یا دریا بہیں گے یا پھر ان کا خون۔”

More From Author

کراچی میں لڑکی کی پروفائل تصویر پر جھگڑے کے دوران نوجوان جاں بحق

یکم جولائی سے پٹرول 11 روپے فی لیٹر مہنگا ہونے کا امکان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے