اسلام آباد — 7 جولائی، 2025
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے، جو 10 جولائی تک مؤثر رہے گا۔
اتوار کے روز جاری کردہ ایک تفصیلی ایڈوائزری میں این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کے طاقتور سسٹمز مختلف علاقوں میں ندی نالوں اور دریاؤں میں اچانک پانی کے بہاؤ میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس الرٹ کا اطلاق پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان پر ہوگا۔
ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ دریائے چناب کے مرالہ اور قادرآباد ہیڈورکس پر نچلے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے، جب کہ دریائے سندھ، کابل، سوات، پنجکوڑہ، چترال، ہنزہ اور دیگر معاون دریاؤں میں بھی پانی کی سطح بڑھنے کا امکان ہے۔
ناردرن پنجاب، آزاد کشمیر اور جنوبی بلوچستان کے علاقوں میں ندی نالوں کے طغیانی کا خطرہ خاص طور پر تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ پیر پنجال اور کیرتھر کے پہاڑی سلسلوں سے بہنے والے برساتی نالے شدید بارش کے بعد اچانک بہہ سکتے ہیں، جس سے قریبی آبادیوں کو خطرہ لاحق ہے۔
بلوچستان کے اضلاع اواران، خضدار، جھل مگسی، قلعہ سیف اللہ اور موسیٰ خیل کو ہائی رسک زونز میں شامل کیا گیا ہے، جہاں تھوڑی سی تیز بارش بھی خطرناک صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نچلے علاقوں سے قیمتی سامان اور مال مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں، تیز بہاؤ والے نالوں، پانی میں ڈوبی سڑکوں اور پلوں سے گریز کریں، اور کم از کم 3 سے 5 دن کے لیے خوراک، پینے کا صاف پانی اور ضروری ادویات پر مشتمل ایمرجنسی کٹ تیار رکھیں۔
ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ نکاسی آب کے پمپ اور دیگر مشینری تیار رکھیں اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل کریں۔ تمام متعلقہ اداروں کو قریبی رابطے میں رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے کے ایک ترجمان نے صحافیوں کو بتایا، "عوام سے درخواست ہے کہ موسم کی صورت حال پر نظر رکھیں، سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور اگر حالات خراب ہوں تو فوری اقدامات کریں۔ اگلے چند دن بہت اہم ہیں۔”
ملک بھر میں ہنگامی ادارے شہری اور دیہی علاقوں میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ ہو چکے ہیں، تاکہ نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے اور قیمتی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔