جولائی 2025
دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک، مائیکروسافٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے 9,000 ملازمین کو فارغ کر رہی ہے — یہ رواں سال کمپنی کی جانب سے کی جانے والی چوتھی بڑی کٹوتی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مائیکروسافٹ اپنی تمام تر توجہ اور سرمایہ کاری مصنوعی ذہانت (AI) کی جانب منتقل کر رہا ہے۔
یہ چھانٹیاں مائیکروسافٹ کی عالمی افرادی قوت کا تقریباً 4 فیصد حصہ بنتی ہیں، جو کہ اس وقت 2,28,000 ملازمین پر مشتمل ہے۔ کمپنی نے واضح طور پر نہیں بتایا کہ کن شعبوں میں یہ کٹوتیاں کی جا رہی ہیں، تاہم ٹیک ذرائع کے مطابق اس بار کمپنی کے معروف گیمنگ ڈویژن ایکس باکس کو خاصا نقصان پہنچے گا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مائیکروسافٹ کے ترجمان نے کہا:
"ہم مسلسل ایسے تنظیمی فیصلے کر رہے ہیں جو ہمیں تیزی سے بدلتی ہوئی مارکیٹ میں کامیابی کے لیے بہتر طور پر تیار کر سکیں۔”
ذرائع کے مطابق دو بڑے ویڈیو گیم پراجیکٹس — پرفیکٹ ڈارک کے ریبوٹ اور ایور وائلڈ — کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اندرونی ای میلز، جنہیں The Verge اور IGN نے حاصل کیا، بتاتی ہیں کہ The Initiative نامی اسٹوڈیو، جو پرفیکٹ ڈارک پر کام کر رہا تھا، مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ دیگر متاثرہ اسٹوڈیوز میں Turn 10 (Forza Motorsport کے خالق) اور ZeniMax Online Studios شامل ہیں، جو کہ Elder Scrolls Online کے پیچھے ہیں۔
ZeniMax کے دیرینہ اسٹوڈیو ڈائریکٹر، میٹ فیریر (Matt Firor) نے بھی اپنی روانگی کا اعلان کر دیا ہے، جو اس اسٹوڈیو کے ساتھ ان کی 18 سالہ وابستگی کا اختتام ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں فیریر نے کہا:
"اگرچہ میں اب اس گیم پر کام نہیں کر رہا، لیکن میں ہمیشہ آپ سب کے لیے نیک تمنائیں رکھوں گا اور گیم میں گزارے گئے ہزاروں گھنٹوں کو ہمیشہ یاد رکھوں گا۔”
صرف مائیکروسافٹ ہی نہیں، بلکہ آزاد اسٹوڈیوز بھی اس کٹوتی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ آئرلینڈ میں قائم Romero Games Ltd — جس کے بانی DOOM کے مشہور تخلیق کار جان رومیو ہیں — نے بھی اپنے ملازمین کو فارغ کر دیا ہے۔ رومیو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا:
"یہ وہ بہترین ٹیم ہے جس کے ساتھ میں نے کبھی کام کیا۔ افسوس ہے کہ ہماری گیم اور اسٹوڈیو بھی متاثر ہوا۔”
AI کی جانب اسٹریٹجک پیش قدمی
یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مائیکروسافٹ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے قدم بڑھا رہا ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ AI ماڈلز کے تربیتی مراکز اور چپس کی تیاری کے لیے 80 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
اسی سلسلے میں رواں سال مائیکروسافٹ نے برطانوی AI ماہر اور DeepMind کے شریک بانی مصطفیٰ سليمان کو اپنی نئی AI ڈویژن کا سربراہ مقرر کیا — جو اس بات کی علامت ہے کہ کمپنی AI کو اپنی اگلی دہائیوں کی بنیاد بنانے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہے۔
ایک سینئر مائیکروسافٹ عہدیدار نے حال ہی میں بی بی سی سے گفتگو میں کہا:
"اگلے پچاس سال بنیادی طور پر مصنوعی ذہانت سے متعین ہوں گے — یہ نہ صرف کام کرنے کے انداز کو بدل دے گی بلکہ ہماری ٹیکنالوجی کے ساتھ وابستگی کا مفہوم بھی بدل دے گی۔”
تاہم یہ راہ اتنی ہموار نہیں۔ Bloomberg کے مطابق، مائیکروسافٹ اور OpenAI کے درمیان تعلقات میں حالیہ مہینوں میں کچھ کشیدگی آئی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ کمپنی کی اپنی AI اسسٹنٹ Copilot کو کاروباری صارفین کے درمیان زیادہ مقبولیت نہیں مل رہی — اور بیشتر صارفین ChatGPT کو ترجیح دے رہے ہیں۔
دوسری جانب، AI ٹیلنٹ کے حصول کے لیے بڑی ٹیک کمپنیاں ایک نئی دوڑ میں شامل ہو چکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق Meta کے سی ای او مارک زکربرگ خود AI ماہرین کی بھرتی میں پیش پیش ہیں، اور OpenAI کے سربراہ سیم آلٹمین کے مطابق بعض ماہرین کو $100 ملین سے زائد کی سائننگ بونس کی پیشکش بھی ہو چکی ہے۔
ایمازون کے سی ای او اینڈی جیسی بھی اس دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں، اور گزشتہ ماہ انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی کے کئی موجودہ عہدے مستقبل میں AI کے ذریعے ختم کیے جا سکتے ہیں۔
بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں تیزی سے AI کی دوڑ میں شریک ہو رہی ہیں — اور ایسا لگتا ہے کہ آنے والا وقت صرف کوڈنگ سے نہیں، بلکہ اس سے بھی طے ہوگا کہ کون اس تبدیلی کے طوفان میں خود کو برقرار رکھ پاتا ہے۔