ایران کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے اتوار کے روز پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں حالیہ 12 روزہ اسرائیل-ایران کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت پر تہران کی جانب سے شکریہ ادا کیا گیا۔
گفتگو کے دوران جنرل موسوی نے پاکستان کے "دلیرانہ اور اصولی مؤقف” کو سراہا اور کہا کہ ایرانی عوام نے اسرائیلی حملوں کے خلاف اسلام آباد کی "دوٹوک مذمت” کو قدر کی نگاہ سے دیکھا، جن میں عام شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ یہ تنازعہ 13 جون کو اس وقت شدت اختیار کر گیا جب اسرائیل نے ایران کے سینئر فوجی افسران اور حساس جوہری تنصیبات — اصفہان، نطنز اور فردو — پر شدید حملے کیے۔ ایران نے ان حملوں کے جواب میں اسرائیلی اور امریکی اہداف پر میزائل داغے۔ بالآخر 24 جون کو عالمی دباؤ کے تحت فائر بندی کا اعلان ہوا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، جنرل موسوی نے الزام عائد کیا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کو مکمل حمایت فراہم کی، جب کہ دیگر مغربی ممالک نے بھی عملی اور سیاسی طور پر اسرائیل کا ساتھ دیا۔
اگرچہ ایران کو جنگ کے دوران کئی اہم فوجی کمانڈروں کی شہادت سمیت بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، مگر تہران کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسرائیل کو اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے سے روک دیا اور بالآخر دشمن کو حملے روکنے پر مجبور کر دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق، اسرائیل نے 23 جون کو یکطرفہ طور پر حملے بند کیے۔
ٹیلیفونک گفتگو میں جنرل عاصم منیر نے ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون قرار دیا اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ رابطہ خطے میں حالیہ برسوں کے سب سے شدید فوجی تصادم کے چند دن بعد ہوا، جس میں درجنوں افراد ہلاک اور دونوں اطراف کی بنیادی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ اگرچہ فوری طور پر کشیدگی میں کمی آئی ہے، لیکن اس تنازعے کے سفارتی اور عسکری اثرات اب بھی پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔