ایران پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، مگر جنگ سے گریز چاہتا ہے: سابق امریکی مشیر

واشنگٹن: ایران اور اسرائیل کے درمیان پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکہ تہران سے دوبارہ سنجیدہ سفارتی رابطے بحال نہیں کرتا، یہ انتباہ مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر اور امریکی محکمہ خارجہ کے سابق مشیر ڈاکٹر ولی نصر نے کیا ہے۔

جمعرات کو دی نیو یارک ٹائمز اور ٹائم میگزین میں شائع ہونے والے دو مضامین میں ڈاکٹر نصر نے حالیہ ایران-اسرائیل کشیدگی اور اس کے ممکنہ اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

ان کے مطابق، یہ بحران ایران کی اسلامی حکومت کے لیے 1979 کے انقلاب کے بعد سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اس تنازع کو محض ایک واقعہ نہیں بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں — خاص طور پر اسرائیل — کے ساتھ وجودی جنگ کا تسلسل سمجھتے ہیں۔

“خامنہ ای نے اپنی تقریباً چار دہائیوں کی قیادت میں مغرب کے خلاف سخت گیر پالیسی کو برقرار رکھا ہے،” وہ نیویارک ٹائمز میں لکھتے ہیں۔ “اسرائیلی حملوں کے جواب میں حالیہ کشیدگی اُن کے مؤقف کو مزید سخت کرنے کا سبب بنے گی، نرمی کا نہیں۔”

تاہم، ڈاکٹر نصر کے مطابق ایران کی جانب سے ردعمل جارحانہ ضرور تھا، مگر حد سے تجاوز نہیں کیا گیا۔ “ایران کھلی جنگ نہیں چاہتا،” وہ کہتے ہیں۔ “اس کی حکمت عملی طاقت کا اظہار کرنا ہے، مگر ایسے انداز میں کہ مکمل جنگ کو دعوت نہ ملے۔”

ٹائم میگزین میں وہ ایران کے ردعمل کو “منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا مظاہرہ” قرار دیتے ہیں — ایسا ردعمل جو پیغام دے، مگر تباہ کن نتائج سے بچائے۔ وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ سیزفائر کو کشیدگی روکنے کا اہم عنصر قرار دیتے ہیں، مگر خبردار کرتے ہیں کہ یہ محض عارضی وقفہ ہے، اصل امن نہیں۔

“ایران اور اسرائیل بظاہر پیچھے ہٹ چکے ہیں،” وہ لکھتے ہیں، “لیکن وہ حالات جنہوں نے اس تصادم کو جنم دیا، ابھی بھی موجود ہیں۔”

اصل مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ ڈاکٹر نصر کا کہنا ہے کہ حالیہ اسرائیلی حملے کے باوجود ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں کی جا سکی۔ ان کے مطابق، اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی نیا جامع معاہدہ نہ ہوا، تو ایران ممکنہ طور پر اپنے پروگرام کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کرے گا۔ “ایران کے پاس اس وقت بھی تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم موجود ہے، جو بعض تخمینوں کے مطابق 10 جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔”

ان کا مؤقف ہے کہ جنگ سے بچنے کا واحد راستہ سنجیدہ سفارتکاری ہے۔

لیکن یہ راستہ آسان نہیں ہوگا۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ 2015 میں طے پانے والا جوہری معاہدہ 2018 میں امریکی فیصلے سے ختم کر دیا گیا، جس سے ایران کا امریکی وعدوں پر اعتماد شدید مجروح ہوا۔ “ایرانی قیادت اب امریکی وعدوں پر یقین نہیں کرتی،” وہ کہتے ہیں۔ “اگر واشنگٹن دوبارہ مذاکرات چاہتا ہے، تو اسے محض معاشی ریلیف نہیں بلکہ سلامتی کی ٹھوس ضمانتیں اور اسرائیلی حملوں سے تحفظ کی یقین دہانیاں بھی دینی ہوں گی۔”

ڈاکٹر نصر ایران کے اندرونی حالات کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، ایرانی عوام محب وطن ہیں اور اپنے ملک کا دفاع چاہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ امن، استحکام اور معیشت کی بہتری کے بھی خواہاں ہیں۔ امریکی حکام کو کبھی امید تھی کہ عوامی مشکلات ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف کر دیں گی، مگر نصر کے مطابق ایسا نہیں ہوا۔

بلکہ، حالیہ کشیدگی نے عوامی جذبات کو حکومت کے ساتھ مزید جوڑ دیا ہے — اگرچہ اندرونی پالیسیوں پر سوالات ضرور اٹھ رہے ہیں۔ “دباؤ بڑھ رہا ہے،” وہ کہتے ہیں۔ “اگر معاشی مشکلات برقرار رہیں، تو حکومت کی پالیسیوں پر عوامی سطح پر سنجیدہ سوالات ضرور اٹھیں گے۔”

آخر میں، نصر دونوں فریقوں کو ایک فیصلہ کن موڑ پر دیکھتے ہیں۔ ایران کو طے کرنا ہوگا کہ جوہری ہتھیاروں کی کوشش عالمی تنہائی کے قابل ہے یا نہیں، جبکہ امریکہ کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ تصادم کا راستہ اپنائے یا دوبارہ بات چیت کی راہ اختیار کرے۔ “سفارتکاری مشکل ہوگی،” نصر نتیجہ اخذ کرتے ہیں، “لیکن یہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں اس جنگ کے اعادے — یا اس سے بھی بدتر نتائج — سے بچا سکتا ہے

More From Author

روبیو اور وزیراعظم شہباز شریف کا مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن پر زور

امریکہ نے پاکستانیوں کے ویزا قواعد سخت کر دیے، سوشل میڈیا اکاؤنٹس عوامی کرنے کی ہدایت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے