اسلام آباد/واشنگٹن: جمعرات کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے باہمی تعاون پر زور دیا، خاص طور پر ایران کے حوالے سے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کے مطابق، روبیو نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ دونوں رہنماؤں نے اسرائیل اور ایران کے درمیان دیرپا امن قائم کرنے کی اہمیت پر اتفاق کیا، ایسے وقت میں جب واشنگٹن ایران سے دوبارہ مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے میں مصروف ہے۔
یہ کال ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ ایران سے سفارتی رابطے دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دے رہی ہے — ممکنہ طور پر اگلے ہفتے سے۔
روبیو کے ایران سے متعلق سخت موقف کو پاکستان اور امریکہ دونوں میں مختلف انداز سے دیکھا جا رہا ہے۔ کچھ حلقے اسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات کا اشارہ سمجھتے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک یہ پاکستان کو خطے میں ایک ذمہ دار اور مثبت کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر تسلیم کرنے کی علامت ہے۔
یہ رابطہ حالیہ دنوں میں اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے کئی اعلیٰ سطحی روابط کی کڑی ہے۔ گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ہونے والی ملاقات کو "خوشگوار اور نتیجہ خیز” قرار دیا تھا۔
یہ ملاقات نہ صرف اہم تھی بلکہ علامتی طور پر بھی خاصی اہمیت کی حامل تھی، کیونکہ پہلی بار کسی حاضر سروس پاکستانی فوجی سربراہ کو وائٹ ہاؤس میں باقاعدہ طور پر امریکی صدر نے خوش آمدید کہا — جسے پاکستان کی خارجہ و سیکیورٹی پالیسی میں فوج کے کلیدی کردار کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے۔
فوج کے ترجمان کے مطابق، اس ملاقات میں انسدادِ دہشت گردی کے مشترکہ اقدامات اور دوطرفہ تجارت کے فروغ پر گفتگو کی گئی۔
اس کے بعد نیٹو سربراہی اجلاس میں صدر ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی پر پردے کے پیچھے ہونے والی سفارتکاری سے متعلق نایاب تفصیلات بتائیں۔
انہوں نے کہا، "یہ وہ کشیدگی تھی جہاں جوہری ہتھیاروں کا خطرہ حقیقی تھا، محض خدشہ نہیں۔” انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے دونوں ممالک پر واضح کیا کہ اگر لڑائی جاری رہی، تو کوئی تجارتی معاہدہ نہیں ہوگا۔ "وہ مان گئے… اور ہم نے جوہری جنگ روک دی۔”
اگرچہ انہوں نے جنرل منیر کا نام نہیں لیا، لیکن وہ پہلے بھی انہیں "غیر معمولی انسان اور متاثر کن شخصیت” کہہ چکے ہیں۔
ٹرمپ کے بیانات پاکستان کے مؤقف کی توثیق کرتے ہیں، جو بھارت کے مؤقف سے مختلف ہے۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ اس نے بحران کے دوران کوئی بیرونی ثالثی قبول نہیں کی۔ تاہم، ٹرمپ کے تبصرے ایک مختلف کہانی سناتے ہیں — جس سے بظاہر وائٹ ہاؤس کی خفیہ مداخلت کا عندیہ ملتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا، "پاکستانی ایران کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں — شاید سب سے بہتر۔ لیکن وہ خوش نہیں ہیں۔”
یہ مختصر مگر اہم جملہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اب پاکستان کو صرف جنوبی ایشیا کا کھلاڑی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں بصیرت رکھنے والا اہم ملک تصور کر رہا ہے۔
اسی تناظر میں وزیر خارجہ روبیو کی وزیراعظم شہباز شریف سے بات چیت محض رسمی رابطہ نہیں بلکہ امریکہ کی خطے میں پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرنے کا عندیہ ہے — خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن ایران کے ساتھ تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ لے رہا ہے۔
روبیو کا ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خلاف سخت موقف امریکہ کی دیرینہ پالیسی کا اعادہ ہے، جبکہ پاکستان کے ساتھ اس حوالے سے ہم آہنگی اسے ایک ذمہ دار اور تعمیری فریق کے طور پر پیش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ سفارتی سرگرمیاں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کر رہی ہیں — ایسا موقع جہاں پاکستان صرف اپنے خطے تک محدود نہیں، بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنا مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے