اوپن اے آئی نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کر دی ہے اور اسپیس ایکس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی سب سے زیادہ قیمتی نجی کمپنی بن گئی ہے، جس کی مجموعی مالیت 500 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
یہ سنگ میل اُس وقت حاصل ہوا جب کمپنی نے 6.6 ارب ڈالر مالیت کے حصص ثانوی فروخت میں پیش کیے، جس کے نتیجے میں ملازمین نے اپنے حصص بڑی سرمایہ کار کمپنیوں کو بیچ دیے۔ اس میں تھرائیو کیپیٹل، ٹی رو پرائس، سافٹ بینک اور ابوظہبی کی ایم جی ایکس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، چپ ساز کمپنی این ویڈیا نے بھی تقریباً 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا، جو مصنوعی ذہانت کی دنیا میں اوپن اے آئی کے مرکزی کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
سال 2025 میں کمپنی کی مالیت تین گنا بڑھ گئی، جس کی بڑی وجہ چیٹ جی پی ٹی کی بے پناہ مقبولیت ہے، جو اب ہر ہفتے 70 کروڑ سے زائد صارفین استعمال کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جی پی ٹی–5، جی پی ٹی–5 کوڈیکس اور سورا 2 جیسے نئے پراڈکٹس کی تیز رفتار لانچ نے بھی ترقی کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔ کمپنی کی آمدن بھی اسی رفتار سے بڑھی اور مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی میں 4.3 ارب ڈالر تک جا پہنچی، جب کہ اندازہ ہے کہ سال کے اختتام تک یہ 13 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ تاہم، بھاری تربیتی اور انفراسٹرکچر لاگت کے باعث کمپنی اب بھی منافع میں داخل نہیں ہو پائی۔
مصنوعی ذہانت کی صنعت میں مقابلہ سخت تر ہو رہا ہے۔ حریف کمپنی اینتھروپک کی مالیت اب 183 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے، جبکہ میٹا اور چین کی ڈیپ سیک بھی دوڑ میں شامل ہیں۔ دوسری جانب، اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین کو ایلون مسک کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمات اور مائیکروسافٹ کے ساتھ جاری مذاکرات جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
ان مشکلات کے باوجود، اوپن اے آئی کی غیر معمولی ترقی سرمایہ کاروں اور صارفین کے رویوں کو تیزی سے بدل رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کمپنی نے ترقی اور منافع کے درمیان توازن قائم کر لیا تو کھرب ڈالر کی مالیت تک پہنچنا زیادہ دور کی بات نہیں ہوگی۔