اسلام آباد – وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز اسرائیل-فلسطین تنازعے میں حالیہ سفارتی پیش رفت پر محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کا تازہ بیان جنگ بندی کے ایک ممکنہ موقع کی نشاندہی کرتا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے عالمی رہنماؤں کی کوششوں کو سراہا اور خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے فلسطینی مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کو آگے بڑھایا۔
انہوں نے لکھا: ’’الحمدللہ، ہم اس ظلم و بربریت کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ جنگ بندی کے اتنے قریب ہیں۔ پاکستان فلسطین کے مقصد کے ساتھ اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔‘‘
وزیراعظم نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ اور قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، اردن، مصر اور انڈونیشیا کی قیادتیں، جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ٹرمپ سے ملیں، شکریے کی مستحق ہیں۔
شہباز شریف نے زور دیا کہ حماس کے بیان نے ’’امن اور جنگ بندی کی ایک کھڑکی‘‘ کھولی ہے جسے دوبارہ بند نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے تمام شراکت داروں اور برادر ممالک کے ساتھ مل کر فلسطین میں دیرپا امن کے لیے کام کرتا رہے گا۔
ادھر صدر ٹرمپ نے جمعہ کو اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ پر بمباری روک دے، کیونکہ حماس نے ان کے جنگ بندی منصوبے کے تحت ’’پائیدار امن‘‘ کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ رواں برس جنوری میں اقتدار میں واپسی کے بعد ٹرمپ نے کھلے عام اسرائیل، جو امریکہ کا قریبی اتحادی ہے، سے حملے روکنے کی اپیل کی۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا: ’’حماس کے حالیہ بیان کی بنیاد پر میرا یقین ہے کہ وہ پائیدار امن کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیل کو فوری طور پر غزہ پر بمباری بند کرنی چاہیے تاکہ یرغمالیوں کو محفوظ اور جلدی سے نکالا جا سکے۔‘‘
تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ حالات اب بھی نہایت نازک ہیں: ’’اس وقت ایسا کرنا بہت خطرناک ہے۔ ہم پہلے ہی تفصیلات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ صرف غزہ کا معاملہ نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں برسوں سے درکار امن کا سوال ہے۔‘‘
ایک غیرمعمولی اقدام کے طور پر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس دونوں نے حماس کا بیان سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے اوول آفس سے ایک مختصر ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے قطر، مصر، سعودی عرب، ترکی اور اردن کا کردار سراہا۔
ٹرمپ نے کہا: ’’یہ ایک نہایت خاص دن ہے، شاید پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ میں پرامید ہوں کہ یرغمالی جلد اپنے والدین کے پاس لوٹ آئیں گے۔‘‘