اوشنگیٹ حادثے کے دو سال بعد ارب پتی کا 10 ملین ڈالر کا ٹائٹینک غوطہ

اوشنگیٹ کی آبدوز حادثے کو دو برس گزرنے کے بعد، ایک ارب پتی شخصیت مبینہ طور پر ٹائٹینک کے ملبے تک پہنچنے کے لیے خطرناک اور مہنگے غوطے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس مشن پر تقریباً ایک کروڑ ڈالر لاگت آنے کا اندازہ ہے۔

یاد رہے کہ جون 2023 میں ٹائٹن آبدوز شمالی بحرِ اوقیانوس کی تہہ میں 12,500 فٹ کی گہرائی پر اچانک پھٹ گئی تھی، جس میں تمام پانچ مسافر جاں بحق ہوئے تھے۔ ان میں اوشنگیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش، برطانوی مہم جو ہیامش ہارڈنگ، پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد، اور معروف فرانسیسی غوطہ خور پال ہینری نارگیولے شامل تھے۔ اس سانحے نے دنیا بھر میں نجی گہرے سمندری سیاحت اور اس کی سلامتی پر سخت سوالات کھڑے کر دیے تھے۔

اس کے باوجود، ٹائٹینک کی کشش آج بھی کم نہیں ہوئی۔ امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق ایک نامعلوم ارب پتی نے ملبے تک جانے کے اس خطرناک سفر میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ایسا نام ہے جسے دنیا فوراً پہچان لے گی۔

ذرائع کے مطابق: “یہ اوشنگیٹ حادثے کے بعد پہلا مشن ہوگا جو ٹائٹینک تک پہنچنے کی کوشش کرے گا، اور اس کا باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے۔” ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود، 1912 میں ڈوبنے والے ٹائٹینک کی کہانی اب بھی دنیا کو مسحور کرتی ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایسے غوطے شدید خطرات سے خالی نہیں، تاہم اس نئی مہم نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ تاریخ کے اس مشہور ترین جہاز کے ملبے کی کشش سانحوں کے سائے میں بھی قائم ہے

More From Author

 پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں پیش رفت، اہم معاہدوں پر دستخط

پنجاب میں پرائمری تعلیم کے فروغ کے لیے عالمی بینک کا 4 کروڑ 79 لاکھ ڈالر کا گرانٹ منظور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے