اقوامِ متحدہ، 28 جولائی 2025 — اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں آج سے ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہو رہا ہے جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل کی راہ ہموار کرنا ہے۔ تاہم اس اہم اجلاس سے دو کلیدی فریق — امریکا اور اسرائیل — غیر حاضر ہیں۔
فرانس اور سعودی عرب کے اشتراک سے منعقدہ اس طویل عرصے سے طے شدہ اجلاس میں دنیا بھر کے درجنوں وزرائے خارجہ اور سینئر سفارتکار شریک ہو رہے ہیں۔ یہ کانفرنس جون میں ہونی تھی، مگر اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔
کانفرنس کا مرکزی مقصد ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا خاکہ پیش کرنا ہے، جس میں اسرائیل کی سلامتی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ تاہم واشنگٹن اور تل ابیب کی غیر موجودگی نے اس کانفرنس کے اثر و رسوخ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں-نوئل بَرو نے اجلاس سے قبل فرانسیسی اخبار لا تریبیون ڈیمانش سے گفتگو میں بتایا کہ فرانس اس موقع پر دیگر ممالک کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی دعوت دے گا۔ اُنہوں نے صدر ایمانویل میکرون کے اس بیان کی بھی توثیق کی کہ فرانس ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی سالانہ جنرل اسمبلی کے دوران فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لے گا۔
"ہم نیویارک میں ایک زوردار اپیل کریں گے تاکہ دوسرے ممالک بھی ہمارے ساتھ شامل ہوں اور ایک نئی، پرعزم اور بااثر تحریک کا آغاز کریں، جو 21 ستمبر کو اپنے عروج پر پہنچے گی،” بَرو نے کہا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُنہیں توقع ہے کہ تب تک عرب ممالک بھی حماس کی مذمت اور اُس کی غیر مسلح کرنے کے حق میں آواز اٹھائیں گے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کو 22 ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ تنازع اُس وقت بھڑکا جب 7 اکتوبر 2023 کو حماس نے جنوبی اسرائیل میں حملہ کر کے تقریباً 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا اور 250 کے قریب افراد کو یرغمال بنا لیا، اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق۔ اس کے ردِعمل میں اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک غزہ میں تقریباً 60,000 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جیسا کہ غزہ کے محکمہ صحت کا دعویٰ ہے۔
امریکا نے اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے اسے “حماس کے لیے ایک تحفہ” قرار دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق حماس نے وہ جنگ بندی تجاویز مسترد کی ہیں جو اسرائیل پہلے ہی قبول کر چکا تھا، اور یہ کانفرنس امن کے امکانات کو مزید خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ امریکا نے پچھلے سال بھی اس کانفرنس کے حق میں اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا تھا۔
ادھر اسرائیل نے بھی اس اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ اسرائیلی اقوامِ متحدہ مشن کے ترجمان جوناتھن ہارونوف کا کہنا تھا کہ "اگر کوئی سفارتی کوشش سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے حماس کی دہشت گردی کی مذمت اور تمام یرغمالیوں کی رہائی پر زور دینا چاہیے۔”
اگرچہ ماحول کشیدہ ہے، اقوامِ متحدہ بدستور دو ریاستوں کے تصور کی حمایت کرتا ہے — جہاں اسرائیل اور فلسطین باہمی طور پر تسلیم شدہ اور محفوظ سرحدوں کے اندر آزاد ریاستوں کی صورت میں ساتھ ساتھ رہیں۔
فلسطینی عوام ایک ایسی ریاست کے خواہاں ہیں جو مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ پر مشتمل ہو — وہ علاقے جو اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں قبضے میں لے لیے تھے۔ گزشتہ سال اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک علامتی مگر اہم قدم اٹھاتے ہوئے فلسطین کو مکمل رکنیت کے لیے اہل قرار دیا تھا اور سکیورٹی کونسل سے کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر نظرثانی کرے۔ یہ قرارداد 143 ووٹوں سے منظور ہوئی، صرف 9 ووٹ مخالفت میں آئے — جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دنیا کی اکثریت فلسطینی ریاست کے قیام کی حامی ہے، چاہے امریکا نے سکیورٹی کونسل میں اس کوشش کو ویٹو کر رکھا ہو