اسلام آباد کی عدالت نے معروف صحافیوں اور ناقدین کے یوٹیوب چینلز پر پابندی معطل کر دی

اسلام آباد — اظہارِ رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل حقوق کے حامیوں کے لیے ایک بڑی کامیابی سامنے آئی ہے، جب اسلام آباد کی ایک عدالت نے 27 یوٹیوب چینلز پر عائد وہ متنازعہ پابندی معطل کر دی، جو چند روز قبل سائبر کرائم کی ایک نئی سرکاری ایجنسی کی درخواست پر لگائی گئی تھی۔

یہ چینلز معروف پاکستانی صحافیوں اور آزاد خیال تجزیہ کاروں کی آواز بنے ہوئے تھے، جنہیں “ریاست مخالف مواد، جھوٹی معلومات اور عدلیہ کے خلاف پراپیگنڈا” کے الزامات کی بنیاد پر بلاک کر دیا گیا تھا۔

یہ حکم ایڈیشنل سیشن جج افضل ماجوکا نے جاری کیا، جس میں انہوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ محمد عباس شاہ کے پہلے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔ ابتدائی حکم میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی درخواست پر گوگل کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ان چینلز کو بند کرے۔

متاثرہ صحافیوں میں اسد طور بھی شامل تھے، جنہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پابندی کے خاتمے کی تصدیق کی۔ انہوں نے عدالتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے قانونی عمل کی خلاف ورزی اور طاقت کے ناجائز استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

قانونی جنگ یا آزادی اظہار کا دفاع؟

جون میں خاموشی سے لگائی گئی یہ پابندی، جیسے ہی منظر عام پر آئی، ملک بھر میں سوشل میڈیا صارفین، وکلا، صحافیوں اور آزادیِ اظہار کے حامی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل دیکھنے میں آیا۔

اس پابندی کے خلاف قانونی جنگ لڑنے والوں میں ریاست علی آزاد، زینب جنجوعہ، ایمان زینب مزاری-حاضر، حادی علی، جمال اور فرخ جیلانی جیسے وکلا شامل ہیں، جنہیں فریحہ عزیز جیسے ڈیجیٹل رائٹس ایکٹوسٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

ان کا مؤقف سادہ مگر وزنی ہے: "نہ مناسب نوٹس دیا گیا، نہ جواب کا موقع۔ یہ صرف چینلز کی بات نہیں، یہ بنیادی آئینی حقوق پر حملہ ہے۔”

ایک وکیل نے کہا:
"سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اختلافِ رائے کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے خاموش کرا سکتی ہے؟”

NCCIA کا ابھرتا کردار اور سوالیہ نشان

NCCIA، جو اس تمام معاملے کی مرکزی فریق ہے، حالیہ ترمیم شدہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کے تحت قائم کی گئی ایک نئی سائبر ایجنسی ہے۔ ایجنسی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ چینلز جھوٹا اور اشتعال انگیز مواد پھیلا رہے ہیں، جو عوامی بے چینی اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

تحقیقات کے انچارج سب انسپکٹر وسیم خان نے عدالت کو بتایا کہ مواد نہ صرف "افسران کی نجی زندگی اور عزت” کے خلاف ہے بلکہ "قومی استحکام” کے لیے بھی خطرہ ہے۔

عدالت نے ابتدائی طور پر ایجنسی کی سفارشات کو تسلیم کرتے ہوئے گوگل کو چینلز بند کرنے کی ہدایت کی تھی۔ مگر اب اس فیصلے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ڈیجیٹل رائٹس ایکٹوسٹ اسامہ خلجی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا:
"یہ قانونی طریقہ کار کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ کوئی نوٹس نہیں، کوئی سماعت نہیں۔ مکمل اندھیر نگری۔”

اظہار پر پہرا: ایک تشویشناک رجحان

پاکستان میں یہ پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ریاست کی جانب سے سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی سنسرشپ اور مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کا رجحان واضح ہو چکا ہے۔ ٹوئٹر، ٹک ٹاک، فیس بک جیسے پلیٹ فارمز متعدد بار عارضی طور پر بند کیے جا چکے ہیں۔

جنوری میں حکومت نے PECA میں مزید ترامیم کیں، جن کے تحت سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام اور خصوصی ڈیجیٹل ٹریبونلز کی بنیاد رکھی گئی۔ ان ٹریبونلز کو جھوٹا یا "ریاست مخالف” مواد پھیلانے پر تین سال قید اور بیس لاکھ روپے جرمانہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات پریس اور سوشل میڈیا پر دباؤ ڈالنے کی منظم کوششیں ہیں—خاص طور پر ان مواقع پر جب سیاسی صورتحال نازک ہو۔

اسد طور، جو کھل کر اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے رہے ہیں، نے ردعمل دیتے ہوئے کہا:
"یہ ایک آمرانہ قدم ہے۔ مگر یہ مجھے خاموش نہیں کرا سکتا۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ اس حکم کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے کیونکہ انہیں صفائی کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔

راستہ کہاں جاتا ہے؟

عدالت کے تازہ فیصلے نے وقتی طور پر ان یوٹیوب چینلز کو بحال کر دیا ہے، مگر اصل سوالات اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں:
کیا "ریاست مخالف” یا "جعلی خبر” کی تعریف کوئی ایک ادارہ کرے گا؟ اور کیا کسی کو سنے بغیر، محض الزام کی بنیاد پر، اسے خاموش کر دینا درست ہے؟

یہ کیس پاکستان کے ڈیجیٹل اسپیس کے لیے ایک امتحان بن چکا ہے۔ یہ ایک چھوٹی مگر معنی خیز فتح ضرور ہے، مگر اس کے سائے میں بہت سے اندیشے بھی منڈلا رہے ہیں۔

فی الحال آوازیں واپس آ گئی ہیں۔ مگر کب تک؟ یہ فیصلہ وقت اور عدالتیں ہی کریں گی۔

More From Author

لیاری میں عمارت گرنے سے 27 افراد جاں بحق، ایس بی سی اے کے 9 سینئر افسران گرفتار

پاسپورٹ کے بغیر مسافر غلطی سے کراچی کے بجائے جدہ پہنچ گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے