پاسپورٹ کے بغیر مسافر غلطی سے کراچی کے بجائے جدہ پہنچ گیا

لاہور: لاہور سے کراچی جانے والا ایک مسافر ایک حیران کن واقعے میں بغیر پاسپورٹ اور ویزا کے سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچ گیا، جس نے ہوائی اڈے کی سیکیورٹی اور ایئرلائن انتظامیہ پر کئی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

یہ واقعہ 8 جولائی کو اس وقت پیش آیا جب مسافر، جو ایک مقامی پرواز پر کراچی جانا چاہتا تھا، غلطی سے بین الاقوامی پرواز میں سوار ہو کر جدہ جا پہنچا۔

"میری غلطی نہیں تھی، مجھے صرف کراچی جانا ہے”

لاہور واپسی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسافر نے کہا،
"یہ میری غلطی نہیں تھی۔ ایئرلائن کو اب میرا کراچی کا سفر یقینی بنانا چاہیے، لیکن وہ مجھ سے نئی ٹکٹ خریدنے کا کہہ رہے ہیں۔”

یہ سب ہوا کیسے؟

ایئرلائن انتظامیہ کے مطابق، یہ گڑبڑ لاہور ایئرپورٹ پر جاری تعمیراتی کام اور "آپریشنل کنفیوژن” کی وجہ سے ہوئی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رات 10 بجے کے بعد، ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل دونوں فلائٹس کو وقتی طور پر ایک ہی لاؤنج سے روانہ کیا جا رہا تھا کیونکہ کچھ ٹرمینلز بند تھے۔

اسی دوران کراچی اور جدہ کی پروازیں قریب وقت پر شیڈول تھیں۔ عملے کی کمی، ہجوم اور بدنظمی کے باعث مسافر بغیر کسی پاسپورٹ یا دستاویزات کے بین الاقوامی فلائٹ میں سوار ہو گیا۔

ایک ایئرپورٹ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:
"رات کا وقت تھا، رش زیادہ تھا اور عملہ کم۔ لیکن پھر بھی، بغیر پاسپورٹ کے کسی کو انٹرنیشنل فلائٹ پر کیسے سوار ہونے دیا جا سکتا ہے؟”

بین الاقوامی سفر — بغیر کاغذات کے

جدہ پہنچنے پر سعودی امیگریشن حکام فوراً چوکنا ہو گئے۔ مسافر کے پاس نہ پاسپورٹ تھا، نہ ویزا اور نہ ہی یہ علم کہ وہ وہاں کیسے پہنچا۔ ابتدائی تفتیش اور پوچھ گچھ کے بعد، اسے جلد ہی لاہور واپس ڈیپورٹ کر دیا گیا۔

ایئرلائن پر تنقید کی بوچھاڑ

متاثرہ مسافر کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایئرلائن اسے کراچی تک پہنچانے کا بندوبست کرے۔ لیکن رپورٹ کے مطابق، نجی ایئرلائن اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری ہے اور مسافر کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے نئی ٹکٹ خریدنے کا مشورہ دے رہی ہے۔

ادھر، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) نے واقعے کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں ایئرلائن کے خلاف کارروائی اور بھاری جرمانے کی سفارش کی گئی ہے، جسے "سنگین غفلت” قرار دیا جا رہا ہے۔

سنجیدہ سوالات جنم لے رہے ہیں

یہ واقعہ بظاہر ایک مزاحیہ کہانی لگتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ پاکستان کے ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی، نظم و ضبط اور بنیادی چیک اینڈ بیلنس کی سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایک ڈیجیٹل رائٹس ایکٹوسٹ نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا:
"کیا کسی نے اس کا پاسپورٹ تک نہیں دیکھا؟ اتنی بڑی لاپرواہی کیسے ہو سکتی ہے؟”

ملک بھر میں ایئرپورٹس پر جاری تعمیراتی کام اور محدود سہولیات کے درمیان، یہ واقعہ ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ اگر چیکنگ کے معمولی مراحل بھی نظرانداز ہوں، تو نتائج کتنے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

فی الحال، مسافر لاہور میں ہی موجود ہے — اس اُمید کے ساتھ کہ شاید جلد کوئی اُسے کراچی، اُس کی اصل منزل، پہنچا دے۔

More From Author

اسلام آباد کی عدالت نے معروف صحافیوں اور ناقدین کے یوٹیوب چینلز پر پابندی معطل کر دی

اوپن اے آئی کا نیا براؤزر گوگل کروم کو براہِ راست چیلنج دے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے