اسلام آباد کا باکو–یریوان معاہدے کا خیرمقدم

صدر علییف کی وزیرِاعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک گفتگو، ٹرمپ کی کاوشوں کی تعریف

اسلام آباد:
وزیرِاعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر آذربائیجان کے صدر الهام علییف کو مبارکباد پیش کی، اس پیش رفت کو جنوبی قفقاز کے لیے ایک تاریخی موڑ اور خطے میں خوشحالی کا نیا باب قرار دیا۔

وزیراعظم ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق، صدر علییف نے ٹیلیفون پر وزیرِاعظم سے رابطہ کیا جس میں دونوں رہنماؤں نے امن معاہدے، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی روابط کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو کو "گرم جوش اور دوستانہ” قرار دیا گیا۔

شہباز شریف نے نگورنو–کاراباخ کے طویل تنازع کے خاتمے میں صدر علییف کے "دوراندیشانہ کردار” کو سراہتے ہوئے اسے "خطے کے سب سے پیچیدہ تنازع کے باہمی مفاد میں حل” سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ "قفقاز میں استحکام اور معاشی مواقع کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا”۔ وزیرِاعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو بھی سراہا جنہوں نے اس معاہدے کی راہ ہموار کی۔

یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورنو–کاراباخ کے مسئلے پر پہلی جنگ 1990 کی دہائی کے اوائل میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد ہوئی، جبکہ دوسری جنگ 2020 میں لڑی گئی۔ ستمبر 2023 میں آذربائیجان نے 24 گھنٹوں کی تیز رفتار کارروائی میں متنازعہ علاقے پر کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا، جس کے بعد دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہوئیں۔

امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانا اور تجارت، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو میں صدر علییف نے نگورنو–کاراباخ کے مسئلے پر پاکستان کے "طویل المدتی اور مستقل” حمایت پر گہری قدردانی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ "پاکستانی عوام کے لیے یہ ہمیشہ ایک فرض رہا ہے کہ وہ اپنے آذربائیجانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے رہیں”۔

صدر علییف نے کہا کہ ایک مستحکم جنوبی قفقاز پاکستان کو وسطی ایشیا سے جوڑنے والا اہم مرکز بن سکتا ہے، جو تجارت اور تعاون کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت، خاص طور پر تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں، پر اطمینان کا اظہار کیا۔

حالیہ ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے، جو لاچن اور خانکندی میں ہوئیں، شہباز شریف نے صدر علییف کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دوبارہ دہرائی۔ توقع ہے کہ دونوں رہنما آئندہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس کے موقع پر تیانجن میں دوبارہ ملاقات کریں گے۔

ٹیلیفونک رابطے کے بعد ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں شہباز شریف نے لکھا: "میں نے صدر علییف اور آذربائیجان کے عوام کو تاریخی آذربائیجان–آرمینیا امن معاہدے پر گرمجوش مبارکباد دی… ہم نے دوطرفہ تعلقات کے سفر کا بھی جائزہ لیا اور اس مثبت رفتار کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان آنے والے دنوں میں آذربائیجان کے ساتھ اعلیٰ سطحی روابط کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے

More From Author

امریکا-چین تجارتی جنگ میں وقفہ برقرار، مذاکرات آخری مرحلے میں داخل

دار، فیدان کا غزہ بحران پر تبادلہ خیال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے