اسلام آباد – 8 اگست 2025:
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں — نہ اب اور نہ ہی آئندہ کبھی۔ انہوں نے زور دیا کہ پوری اسلامی دنیا کو فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے، چاہے حالات کچھ بھی ہوں۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کو انسانی تاریخ کا بدترین باب قرار دیا۔
"ظلم تو تاریخ میں بہت دیکھا گیا ہے، مگر جس حوصلے اور استقامت کے ساتھ فلسطینی قوم مزاحمت کر رہی ہے، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی”، انہوں نے کہا۔
انہوں نے عالمی برادری کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کے لیے صرف بیانات دینا کافی نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
"پاکستان کو ہر حال میں فلسطینیوں کے مؤقف کی مکمل حمایت کرنی چاہیے — جو فیصلہ وہ کریں، ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا”، انہوں نے کہا۔
رانا ثناء اللہ نے اسلامی دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے مؤقف پر نظر ثانی کرے اور انصاف و انسانیت کے حق میں اپنا کردار ادا کرے۔
"یہ محض ایک سیاسی معاملہ نہیں بلکہ انسانیت، انصاف اور اخلاقی فرض کا مسئلہ ہے”، انہوں نے واضح کیا۔
خیبرپختونخوا حکومت کو ہٹانے کا کوئی منصوبہ نہیں، رانا ثناء اللہ
رانا ثناء اللہ نے خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال نہ گورنر راج نافذ کرنے کا ارادہ ہے اور نہ ہی تحریک عدم اعتماد لانے کا۔
"میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ وفاقی حکومت کا کے پی حکومت کو گرانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا”، انہوں نے کہا۔
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حالیہ احتجاجی مؤقف پر تبصرہ کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پارٹی کو نظام کے اندر رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔"مشکل وقت ہر سیاسی جماعت پر آتا ہے — پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے بھی ماضی میں چیلنجز کا سامنا کیا ہے اور ہمیشہ آئینی راستہ اختیار کیا ہے"، ان کا کہنا تھا۔
"اگر پی ٹی آئی واقعی نظام کے خلاف جدوجہد کرنا چاہتی ہے تو اسے اس کا برملا اعلان کرنا چاہیے، مگر جمہوریت کا راستہ آئینی اور قانونی طریقہ ہوتا ہے، نہ کہ افراتفری اور تصادم کا