قطر کے امیر کا الزام: اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کو سبوتاژ کیا

نیو یارک – قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جان بوجھ کر غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو ناکام بنا رہا ہے۔ انہوں نے دوحہ میں ہونے والے حالیہ حملے کو ’’غداری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سیز فائر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے شیخ تمیم نے کہا کہ 9 ستمبر کو دوحہ میں سینئر حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے والا حملہ ’’ریاستی دہشت گردی‘‘ اور سیاسی قتل کی ایک واضح مثال ہے۔ اگرچہ حماس قیادت اس حملے میں محفوظ رہی، تاہم چھ افراد جان سے گئے۔ قطر نے اسے اپنی سرزمین پر پہلا اور غیر معمولی حملہ قرار دیا ہے۔

“یہ حملہ ایک رہائشی علاقے میں کیا گیا جہاں اسکول اور سفارتی مشن بھی موجود ہیں،” امیر نے عالمی رہنماؤں کو بتایا۔ “یہ اقدام نہ صرف غزہ میں جاری نسل کشی کو ختم کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کرتا ہے بلکہ اسرائیل کے اس رویے کو بھی بے نقاب کرتا ہے جو تعاون کے بنیادی اصولوں کو روند رہا ہے۔”

مذاکرات کے پردے میں قتل کی سازش

قطر عرصہ دراز سے امریکہ اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر جنگ بندی کے لیے ثالثی کر رہا ہے، تاہم شیخ تمیم نے الزام لگایا کہ اسرائیل دراصل بد نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا: “وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں لیکن پسِ پردہ انہی مذاکراتی ٹیموں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ یہ وہ سوچ ہے جو سفارتکاری کو جنگ کا تسلسل سمجھتی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا مقصد غزہ کو ’’ناقابلِ رہائش‘‘ بنانا ہے، جہاں نہ تعلیم ممکن ہو، نہ علاج اور نہ ہی زندگی۔

’نسل کشی اور نسلی امتیاز‘

شیخ تمیم نے اپنے خطاب میں اسرائیل کو جمہوری ملک کے بجائے ’’نسل کشی میں ملوث ریاست‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا یہ پرانا حربہ کہ ہر مخالف کو یا تو یہودی مخالف قرار دیا جائے یا دہشت گرد کہا جائے، اب اس کے اپنے اتحادیوں کے درمیان بھی اپنی ساکھ کھو رہا ہے۔

انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا: “آج دنیا بھر میں وہی یکجہتی کی لہر ابھرتی دکھائی دے رہی ہے جو گزشتہ صدی میں نسل پرست نظام اپارتھائیڈ کے خاتمے کے لیے اٹھی تھی۔”

عالمی ردعمل

غزہ میں جاری خونریزی اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر غالب رہی۔ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 65 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کو ’’فوری طور پر‘‘ ختم ہونا چاہیے، تاہم انہوں نے دوحہ پر اسرائیلی حملے کی مذمت نہیں کی۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے خبردار کیا کہ “بربریت پر خاموش رہنے والے بھی شریکِ جرم ہیں۔” اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے اس جنگ کو اقوام متحدہ کی تاریخ کے ’’سب سے تاریک لمحات‘‘ میں سے ایک قرار دیا۔

ادھر فرانس، بیلجیم، لگژمبرگ، مالٹا، موناکو اور انڈورا سمیت کئی یورپی ممالک نے فلسطین کو باضابطہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے بھی انسانی حقوق کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا گیا تو ’’طاقت کے زور کا قانون‘‘ دنیا پر حاوی ہو جائے گا۔

قطر کا عالمی برادری کو انتباہ

اپنے خطاب کے اختتام پر شیخ تمیم نے دوحہ حملے کو عالمی اصولوں کی خلاف ورزی سے جوڑتے ہوئے کہا: “اگر ایسے اقدامات کو روکنے کے لیے قدم نہ اٹھایا گیا تو یہ قوانین پر مبنی عالمی نظام کے خاتمے کے مترادف ہوگا، اور دنیا طاقت کے زور پر چلنے لگے گی۔”

قطر کے لیے یہ حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ اس کی خودمختاری اور ثالثی کے کردار پر براہِ راست حملہ ہے۔ قطر، جو امریکی فوجی اڈے ’العدید‘ کی میزبانی کرتا ہے اور اکثر مخالفین کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا آیا ہے، اس حملے کو اپنی حیثیت کے لیے ایک کھلا چیلنج سمجھتا ہے۔

More From Author

پاکستان کے بہترین موبائل نیٹ ورکس کی درجہ بندی: اوکلا کی رپورٹ

ایران کے صدر کا پاک-سعودی دفاعی معاہدے کا خیرمقدم، اقوام متحدہ میں اسرائیل اور امریکا پر کڑی تنقید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے