کراچی:
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے تجارتی اور صنعتی صارفین پر میونسپل ٹیکس میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے کاروباری طبقے اور شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
نئے ڈھانچے کے مطابق تجارتی اور صنعتی صارفین پر ٹیکس 400 روپے سے بڑھا کر 750 روپے کر دیا گیا ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے انکشاف کیا کہ صرف جولائی میں بجلی کے بلوں کے ذریعے کے ایم سی کی وصولی ریکارڈ 33 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جس میں سے اخراجات کے بعد 22 کروڑ روپے بچائے گئے۔ اس اضافے سے قبل بمشکل 10 کروڑ روپے کی بچت ہوتی تھی۔
ادھر کے الیکٹرک کی کمیشن آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے کیونکہ وہ بجلی کے بلوں کے ذریعے کے ایم سی کا ویسٹ مینجمنٹ ٹیکس وصول کرنے پر 7.5 فیصد کمیشن وصول کرتی ہے۔
کاروباری برادری نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ معروف تاجر رہنما شرجیل گوپلانی نے کہا کہ کے ایم سی نے "تاجروں اور عوام دونوں پر حد سے زیادہ بوجھ ڈال دیا ہے” اور کروڑوں روپے کوڑے کے ٹیکس اور اضافی بلوں کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کاروبار پہلے ہی کمزور معیشت میں زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگرچہ کے ایم سی نے اپنی آمدنی میں اضافہ کیا ہے، لیکن اس اقدام سے عوام میں مزید بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ شہریوں کو لگتا ہے کہ وہ زیادہ ادائیگیاں کر رہے ہیں مگر بلدیاتی خدمات میں کوئی خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آتی۔