اسلام آباد — پاکستان کی چائے سے محبت اب ملکی معیشت پر بھاری پڑ رہی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 میں ملک نے 19 ہزار 994 میٹرک ٹن سے زائد چائے درآمد کی، جس پر 41.994 ملین ڈالر لاگت آئی۔ یہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں معمولی اضافہ (0.27 فیصد) ہے، مگر یہ پاکستانی عوام کی چائے کی مسلسل اور بے پناہ طلب کو ظاہر کرتا ہے۔
اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ مسئلہ صرف چائے تک محدود نہیں۔ جولائی میں مجموعی طور پر کھانے پینے کی اشیاء کی درآمدات میں حیران کن طور پر 44.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو بڑھ کر 743.87 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات میں دودھ، خشک میوہ جات، مصالحہ جات اور دالوں کی درآمدات میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی خوراک کی برآمدات میں 10.25 فیصد کمی آئی، جو پہلے سے ہی کمزور تجارتی توازن پر مزید دباؤ ڈالنے کا باعث بنی ہے۔ درآمدات بڑھنے اور برآمدات گھٹنے کے نتیجے میں ملک کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر سے زیادہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ کم آمدنی ہو رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عدم توازن آئندہ مہینوں میں پاکستان کی معاشی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اگرچہ چائے کی بڑھتی ہوئی مانگ پاکستانی ثقافت میں اس کے گہرے رچاؤ کو ظاہر کرتی ہے، لیکن مجموعی رجحان خطرناک ہے: کھانے پینے کی درآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کی صورت میں تجارتی خسارہ مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔