پاکستان کا اسرائیل کے "گریٹر اسرائیل” منصوبے کو سختی سے مسترد

اسلام آباد: پاکستان نے جمعہ کے روز اسرائیلی حکام کے حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کردیا جن میں "گریٹر اسرائیل” کے قیام اور غزہ کے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا عندیہ دیا گیا تھا۔ دفتر خارجہ نے ان دعوؤں کو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ، سفیر شفقات علی خان نے ایک سخت بیان میں کہا کہ تل ابیب کی جانب سے آنے والی یہ بیان بازی نہ صرف اشتعال انگیز ہے بلکہ اس کا مقصد غیر قانونی قبضے کو مزید مستحکم کرنا اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان خطرناک اور اشتعال انگیز منصوبوں کو "فی الفور اور دوٹوک انداز میں مسترد” کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیانات قابض قوت کی بین الاقوامی کوششوں سے مکمل بے اعتنائی اور خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے کے ارادوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ فلسطینی عوام کے خلاف جاری جرائم اور مظالم کو روکا جا سکے۔

علاوہ ازیں، پاکستان نے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں حالیہ بادل پھٹنے سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ دفتر خارجہ نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی

More From Author

جاپان کی آٹو موبائل کمپنیوں کے لیے مراعات کا مطالبہ، آئی ٹی سیکٹر میں تعاون کی خواہش

بھارتی دورے کے بعد چین کے وزیرِ خارجہ کا پاکستان کا دورہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے