پاکستان اور کرغزستان کا 100 ملین ڈالر تجارتی ہدف، اہم معاہدوں پر دستخط

اسلام آباد – 29 جولائی 2025:

پاکستان اور کرغزستان نے دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تجارت کا ہدف 100 ملین ڈالر مقرر کیا ہے، جبکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے کئی اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔

یہ پیشرفت اسلام آباد میں ہونے والے پاکستان-کرغزستان انٹرگورنمنٹل کمیشن (IGC) کے پانچویں اجلاس کے دوران سامنے آئی، جس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور کرغز کابینہ کے نائب چیئرمین ایڈل بائیسالوف نے کی۔

دونوں ممالک نے تجارتی حجم میں حالیہ کمی کو تشویشناک قرار دیا—جو 2022-23 میں 11.2 ملین ڈالر سے کم ہو کر 2024-25 میں صرف 5.18 ملین ڈالر رہ گیا—اور اسے بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات پر اتفاق کیا۔ وزیر لغاری نے اس موقع پر کہا،
"ہمیں اپنی تجارتی سرگرمیوں کو دوبارہ فعال بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارا مشترکہ ہدف یہ ہے کہ دوطرفہ تجارت کو 100 ملین ڈالر تک پہنچایا جائے۔”

تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے کے لیے تین اہم معاہدے

اجلاس کے دوران تین مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے:

  • پہلا معاہدہ کرغزستان کے سینٹر فار اسٹینڈرڈائزیشن اینڈ میٹرولوجی اور پاکستان کے اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے درمیان ہوا، جس میں معیاری جانچ، پیمائش اور کوالٹی سسٹمز میں تعاون پر اتفاق ہوا۔
  • دوسرا معاہدہ کرغز نیشنل انویسٹمنٹ ایجنسی اور پاکستان کے بورڈ آف انویسٹمنٹ کے درمیان طے پایا، جس کا مقصد ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، معدنیات، سیاحت اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
  • تیسرا معاہدہ حلال تجارت سے متعلق تھا، جس میں پاکستان حلال اتھارٹی اور کرغز حلال ڈیولپمنٹ سینٹر کے درمیان مشترکہ سرٹیفیکیشن اور معیار کے لیے تعاون پر اتفاق کیا گیا۔

توانائی، رابطہ کاری اور ماحولیاتی تعاون

دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے میں تعاون پر بھی بات چیت کی۔ کرغزستان نے ایک مجوزہ بجلی کی ترسیلی لائن پر مشترکہ کام کی تجویز دی جو کرغزستان، چین اور پاکستان کو آپس میں جوڑے گی۔ اس کے علاوہ قابل تجدید توانائی، معدنیات کی تلاش، ہائیڈروکاربنز، اور ادارہ جاتی شراکت داری میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

رابطے اور لاجسٹکس بھی اجلاس کا اہم موضوع رہے۔ پوسٹل سروسز، ہوابازی اور مال برداری کے شعبے میں بہتری پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستان نے کرغز ایئرلائنز کو شیڈولڈ فلائٹس شروع کرنے کی دعوت دی، جبکہ کرغزستان نے چین کے راستے ایک نیا ہوائی روٹ تجویز کیا اور فائبر آپٹک کیبل پروجیکٹ میں پاکستان کی شراکت کی پیشکش کی۔

مالیات، صحت اور ثقافت میں ہم آہنگی

مالیاتی شعبے میں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور کرغزستان کے نیشنل بینک نے اسلامی بینکاری، ڈیجیٹل فنانس، اور صلاحیت سازی کے میدان میں تعاون پر اتفاق کیا۔

صحت اور فارماسیوٹیکل شعبے میں، دونوں ممالک نے پاکستانی ادویات کی کرغز مارکیٹ تک آسان رسائی، ویکسین کی مشترکہ تیاری، اور پبلک پروکیورمنٹ کے قوانین میں ہم آہنگی پر بات کی۔

ثقافتی تعاون بھی نمایاں رہا۔ دونوں فریقین نے ثقافتی تقریبات، کھیلوں کے مقابلوں، اور میڈیا میں اشتراک کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ سنیما اور نشریاتی تربیت کے شعبے میں بھی تعاون کی تجاویز سامنے آئیں۔

تعلیم، لیبر اور STEAM میں اشتراک

تعلیمی شعبے میں پاکستان نے کرغز طلبہ کے لیے پاکستان ٹیکنیکل اسسٹنس پروگرام (PTAP) جاری رکھنے کا وعدہ کیا۔ دونوں ممالک نے سائنسی تحقیق، اکیڈمک ایکسچینج اور STEAM (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس، اور ریاضی) میں تربیتی پروگرامز کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

مزدوروں کے تبادلے اور روزگار سے متعلق تعاون کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر بھی بات ہوئی۔

سیاحت، زراعت اور ڈیجیٹل تجارت

سیاحت کے شعبے میں، ایک متفقہ مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے اور ٹور آپریٹرز کے تبادلوں، ثقافتی تشہیر، اور نمائشوں کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا۔

زراعت کے شعبے میں کرغز دالوں اور پاکستانی باسمتی چاول کی تجارت کے لیے ایک نئے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ فوڈ سیفٹی اور ویٹرنری/فائٹوسینیٹری کنٹرول میں بھی تعاون پر بات ہوئی۔

کرغزستان نے پاکستان کے معدنی شعبے—خصوصاً تانبے اور سونے—میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ 1995 کے ٹرانسپورٹ معاہدے کے تحت کارگو آپریشنز کی بحالی اور ڈیجیٹل کامرس کے فروغ پر بھی غور ہوا۔

وزیر لغاری نے کرغزستان کے آت-باشی لاجسٹک سینٹر کو پاکستان کے نیشنل لاجسٹک کارپوریشن کے ساتھ ماڈل شراکت داری قرار دیا اور سرمایہ کاری کے مواقع کو آن لائن اجاگر کرنے کے لیے خصوصی اکنامک زونز (SEZs) اور ٹیکس مراعات سے متعلق معلومات کو اپ ڈیٹ کرنے کی تجویز دی۔

مستقبل کی سمت

پاکستان نے 500kV تورگارت–شِن جیانگ–گلگت بلتستان ٹرانسمیشن لائن میں اپنی دلچسپی دہرائی، جو کرغزستان-چین-پاکستان بجلی راہداری کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔

اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک نے آئندہ IGC اجلاس کرغزستان میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا، جس کی تاریخ سفارتی ذرائع کے ذریعے طے کی جائے گی۔

وزارت اقتصادی امور نے اس اجلاس کو وسطی ایشیا کے ساتھ پاکستان کی پالیسی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا،
"یہ اقدامات پائیدار ترقی، مشترکہ خوشحالی، اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔” وزیر لغاری نے بھی اپنے اختتامی خطاب میں اسی جذبے کا اظہار کرتے ہوئے کہا،
"آئیے ہم مل کر ایک مضبوط، مربوط اور پائیدار شراکت داری کی بنیاد رکھیں، جو باہمی اعتماد، تعاون اور علاقائی امن پر مبنی ہو

More From Author

حکومت کی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے سفارتی و قانونی معاونت جاری رکھنے کی یقین دہانی

کراچی میں ٹریفک کے مسائل کے حل کی جانب اہم قدم: عظیم پورہ روڈ پر 1.4 ارب روپے کی لاگت سے نیا فلائی اوور منظور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے