ٹرمپ نے چینی درآمدات پر 100 فیصد نیا ٹیکس عائد کردیا، عالمی منڈیوں میں ہلچل

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ یکم نومبر سے چین سے آنے والی تمام درآمدات پر 100 فیصد نیا ٹیکس (ٹیرف) عائد کیا جائے گا، جس سے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں زبردست مندی دیکھی گئی ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب چین نے ایک روز قبل سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر ہائی ٹیک مصنوعات میں استعمال ہونے والے نایاب معدنیات کی برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کردی تھیں۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک تند و تیز بیان میں کہا کہ یہ اقدام چین کے “انتہائی جارحانہ تجارتی رویے” کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیجنگ نے “دنیا کے لیے ایک غیر معمولی حد تک مخالفانہ خط” جاری کیا ہے، جس میں اس نے تقریباً تمام مصنوعات پر بڑے پیمانے پر برآمدی پابندیاں لگانے کی دھمکی دی ہے۔

ٹرمپ نے چین کے اس رویے کو “ناقابلِ قبول اور اخلاقی لحاظ سے شرمناک” قرار دیتے ہوئے کہا،

“یکم نومبر سے چین سے درآمد ہونے والی ہر شے پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا اس کے علاوہ وہ تمام ٹیکس جو پہلے سے لاگو ہیں۔”

یاد رہے کہ امریکا پہلے ہی چینی مصنوعات پر 30 فیصد ٹیرف عائد کیے ہوئے ہے، جو اس سال کے آغاز میں 145 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم کیا گیا تھا۔

ٹرمپ نے مزید بتایا کہ امریکا اہم سافٹ ویئر ٹیکنالوجیز کی برآمد پر بھی نئی پابندیاں لگانے جا رہا ہے تاکہ قومی سلامتی کو محفوظ بنایا جا سکے۔

منڈیوں پر اثرات

صدر کے اس اعلان کے بعد وال اسٹریٹ میں زبردست مندی دیکھی گئی۔
ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 385 پوائنٹس (0.8%) گر گیا، ایس اینڈ پی 500 میں 1.25% کمی اور نیسڈیک میں 1.75% کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نیا ٹیرف امریکی معیشت کی بحالی کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے اور رواں سال کے دوران حاصل ہونے والی عارضی تجارتی مصالحت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے: “چین کی کارروائیاں اچانک تھیں

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین کی حالیہ پابندیاں “چونکا دینے والی” تھیں اور وہ “بغیر کسی پیشگی اشارے کے” سامنے آئیں۔

“میں نے کچھ شروع نہیں کیا یہ ردِعمل ان کے عمل کے جواب میں تھا، اور وہ صرف ہمیں نہیں بلکہ پوری دنیا کو نشانہ بنا رہے ہیں۔”

تاہم، ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ سفارتی دروازے ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا، “دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔”

قبل ازیں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ چین کو دنیا کو “یرغمال” بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

“ایسا لگتا ہے جیسے وہ کافی عرصے سے اسی حکمتِ عملی پر کام کر رہے تھے،” ٹرمپ نے لکھا۔

شی جن پنگ سے ملاقات خطرے میں

امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے جنوبی کوریا میں ہونے والے اے پیک (APEC) اجلاس میں صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کی مجوزہ ملاقات پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

صبح کے وقت ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا:

“میری دو ہفتے بعد صدر شی سے اے پیک میں ملاقات طے تھی، لیکن اب اس کی کوئی ضرورت دکھائی نہیں دیتی۔”

تاہم شام کو انہوں نے نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا،

“میں ابھی بھی جنوبی کوریا جانے کا ارادہ رکھتا ہوں، ملاقات ہوگی یا نہیں، یہ وقت بتائے گا۔”

عارضی تجارتی جنگ بندی اختتام کے قریب

امریکا اور چین کے درمیان رواں سال مئی سے ایک عارضی تجارتی جنگ بندی نافذ تھی جس سے دونوں ممالک کے درمیان کچھ حد تک کشیدگی میں کمی آئی تھی، مگر اب یہ معاہدہ صرف چند ہفتوں میں ختم ہونے والا ہے۔
اقتصادی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بات چیت ناکام ہوگئی تو دنیا ایک نئی مکمل تجارتی جنگ کی لپیٹ میں آسکتی ہے۔

ایک سینئر امریکی ماہرِ معیشت کے مطابق:

“یہ دو معاشی سپر پاورز کے درمیان ایک انتہائی خطرناک شطرنج کا کھیل ہے۔ اگر کسی ایک فریق نے بھی پسپائی اختیار نہ کی تو اس کے اثرات پوری عالمی معیشت پر پڑیں گے۔”

More From Author

شہید صحافی مریم ابو دقہ کو ’ورلڈ پریس فریڈم ہیرو‘ ایوارڈ سے نوازا گیا

سعودی سرمایہ کار کی جانب سے کے۔الیکٹرک میں کنٹرول حاصل کرنے کا تاریخی معاہدہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے