شہید صحافی مریم ابو دقہ کو ’ورلڈ پریس فریڈم ہیرو‘ ایوارڈ سے نوازا گیا

ویانا — معروف صحافی اور انڈیپنڈنٹ عربیہ کی نمائندہ، مریم ابو دقہ، جو گزشتہ سال اگست میں جنوبی غزہ کے ایک اسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئی تھیں، کو بعد از مرگ عالمی ادارہ برائے صحافت (IPI) اور انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ (IMS) کی جانب سے “ورلڈ پریس فریڈم ہیرو” ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

یہ ایوارڈ، جو جمعرات کو اعلان کیا گیا، ان صحافیوں کے اعزاز میں دیا جاتا ہے جنہوں نے انتہائی خطرناک حالات میں آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے غیر معمولی جرات اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ مریم ابو دقہ کے ساتھ ساتھ یہ اعزاز چھ دیگر ممالک — جارجیا، امریکا، پیرو، ہانگ کانگ، یوکرین اور ایتھوپیا کے ان صحافیوں کو بھی دیا گیا جنہوں نے قید، سنسرشپ اور ریاستی جبر کے باوجود اپنی آواز خاموش نہیں ہونے دی۔

عالمی ادارہ برائے صحافت نے اپنے بیان میں مریم ابو دقہ کو ’’استقامت اور سچائی کی علامت‘‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ بارہا اپنی جان خطرے میں ڈال کر غزہ میں جاری انسانی المیے کو دنیا کے سامنے لاتی رہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا، ’’ان کی شہادت، جس کے ذمہ داروں کا آج تک تعین نہیں کیا گیا، اس بڑھتے ہوئے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے جس کا سامنا غزہ کے صحافی روزانہ کرتے ہیں — نشانہ بننے، بے گھر ہونے اور بھوک کا سامنا کرنے تک۔‘‘

انڈیپنڈنٹ عربیہ کے ایڈیٹر اِن چیف، عثمان العمیر نے مریم ابو دقہ کی بہادری اور پیشہ ورانہ دیانت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:
’’مریم ایک ایسی صحافی تھیں جنہوں نے سچائی کو صرف خبر نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری سمجھا۔ انہوں نے خطرناک ترین حالات میں بھی شہریوں کے دکھ اور انسانی المیے کو دنیا کے سامنے بے خوفی سے پیش کیا۔ وہ ایک آزاد صحافی کی زندہ مثال تھیں جنہوں نے سچ کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔‘‘

ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایگزیکٹو ایڈیٹر، جولی پیس نے بھی مریم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’مریم نے فلسطینی عوام کی زندگیوں کو نہایت متاثر کن انداز میں عکس بند کیا — بے گھر خاندانوں سے لے کر غذائی قلت کے شکار زخمی بچوں کا علاج کرتے ڈاکٹروں تک۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم اب بھی ان کے نقصان پر سوگوار ہیں اور یہ عزم رکھتے ہیں کہ جنگی حالات میں صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔‘‘

2025 کے لیے ورلڈ پریس فریڈم ہیروز کی فہرست میں مریم ابو دقہ کے ساتھ درج ذیل نام شامل ہیں:

  • وِکٹوریا روشچنا (یوکرین) — روسی افواج کی قید میں رہتے ہوئے ستمبر 2024 میں انتقال کر گئیں۔
  • مازیا اماگلوبالی (جارجیا) — ریاستی جبر کے خلاف ڈٹ جانے پر۔
  • مارٹن بیرون (امریکا)دی واشنگٹن پوسٹ کے سابق مدیر، جنہیں صحافتی دیانت کے طویل سفر پر سراہا گیا۔
  • گستاوو گوریٹی (پیرو) — بدعنوانی کے خلاف تحقیقی صحافت پر۔
  • جمی لائی (ہانگ کانگ) — قید میں موجود ایپل ڈیلی کے بانی۔
  • تسفالم والڈیز (ایتھوپیا) — حکومتی دباؤ کے باوجود اپنے کام پر ثابت قدم رہنے پر۔

یہ ایوارڈ 24 اکتوبر کو ویانا یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ ورلڈ کانگریس اور میڈیا انوویشن فیسٹیول کے دوران دیا جائے گا۔

انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، اسکاٹ گرفن نے کہا، ’’اس سال کے اعزاز یافتہ صحافی اس جرات اور قربانی کی نمائندگی کرتے ہیں جو صحافت کی اصل روح ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ادارے کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہم سات ایسے افراد کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں جنہوں نے آزادی صحافت کے دفاع میں اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔ ان کی کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ سچ بولنا انسانیت کا سب سے طاقتور عملِ مزاحمت ہے۔‘‘

2015 سے اب تک، ورلڈ پریس فریڈم ہیرو ایوارڈ دنیا بھر کے 75 سے زائد صحافیوں کو دیا جا چکا ہے۔ گزشتہ سال یہ ایوارڈ خاص طور پر ان فلسطینی صحافیوں کو دیا گیا تھا جو غزہ میں جاری جنگ کی کوریج کر رہے تھے اس بات کا ثبوت کہ سچ کی تلاش میں صحافیوں کی روح کبھی شکست نہیں کھاتی، چاہے حالات کتنے ہی تاریک کیوں نہ ہوں۔

More From Author

پاکستان نے افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی روکنے کا مطالبہ کیا، بھارت سے بڑھتے تعلقات پر گہری نظر

ٹرمپ نے چینی درآمدات پر 100 فیصد نیا ٹیکس عائد کردیا، عالمی منڈیوں میں ہلچل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے