اسلام آباد – 16 جولائی: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران عراق، ایران اور شام جانے والے لگ بھگ 40 ہزار پاکستانی زائرین کا حکومت کے پاس کوئی باضابطہ ریکارڈ موجود نہیں۔
منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ماضی میں زائرین کی نگرانی اور رجسٹریشن کے لیے کوئی مربوط نظام موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے حکومت کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ کون سا زائر کہاں گیا اور واپس آیا بھی یا نہیں۔
انہوں نے کہا، "اگر ہمارے پاس کوئی مکمل اور باقاعدہ نظام ہوتا تو ہم ہر فرد کے سفر اور واپسی کا ریکارڈ رکھ سکتے تھے۔”
سردار یوسف کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان کے لیے باعثِ تشویش ہے بلکہ میزبان ممالک بھی اس پر بارہا اپنے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ ایران، عراق اور شام کی حکومتوں نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ زائرین کے لیے ایک مؤثر، شفاف اور جوابدہ نظام متعارف کرائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں پاکستانی زائرین یا تو انفرادی طور پر سفر کرتے تھے یا کسی غیر رسمی گروپ کے ساتھ، جن کا کوئی باقاعدہ اندراج یا سرکاری نگرانی نہیں ہوتی تھی۔ اس سے نہ صرف زائرین کے تحفظ کے مسائل پیدا ہوتے تھے بلکہ میزبان ممالک کو بھی شکایات ہوتی تھیں۔
وزیر مذہبی امور نے بتایا کہ ان شکایات کے پیش نظر اب حکومت نے زائرین کے قافلوں کی تنظیم و نگرانی کے لیے ایک نیا مرکزی فریم ورک متعارف کرایا ہے، جس کی منظوری وفاقی کابینہ دے چکی ہے۔ اس نظام کے تحت صرف وہی گروپ منتظمین (Zaireen Group Organisers – ZGOs) زائرین کے قافلے لے جا سکیں گے جو وزارتِ مذہبی امور کے ساتھ باقاعدہ رجسٹرڈ ہوں گے۔
وزارت کی جانب سے باقاعدہ پبلک نوٹس جاری کیا جا چکا ہے اور اب تک 1,400 سے زائد کمپنیوں نے رجسٹریشن کے لیے درخواستیں جمع کروا دی ہیں۔
"یہ نیا نظام پرانے غیر مربوط اور غیر رجسٹرڈ نظام کی جگہ لے گا،” سردار یوسف نے کہا۔ "اب غیر رجسٹرڈ منتظمین کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”
اس موقع پر وزیر موصوف نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے سعودی حکومت سے حج کوٹے میں اضافے کی باضابطہ درخواست بھی دے دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "فی الوقت ہمارا حج کوٹہ 1,79,000 ہے، جب کہ ہماری آبادی کے لحاظ سے یہ کوٹہ 2,30,000 ہونا چاہیے۔”