روس کا یوکرین پر ایک اور بڑا حملہ، کییف پر ڈرون حملوں میں 28 افراد جاں بحق، 150 سے زائد زخمی

کییف – 1 اگست 2025:
روس نے یوکرین پر ایک اور شدید حملہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دارالحکومت کییف میں گزشتہ رات کیے گئے ڈرون حملوں میں کم از کم 28 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، امدادی ادارے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ زخمیوں میں 16 بچے بھی شامل ہیں۔ یوکرینی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ جاں بحق افراد میں ایک دو سالہ بچہ بھی شامل ہے۔

یوکرین کی وزیرِاعظم یولیا سویریدینکو نے حملوں کو "سوچا سمجھا اور سفاکانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز اب بھی جاری ہیں اور کئی رہائشی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب عالمی سطح پر اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اس وقت واشنگٹن کی نمائندگی کرتے ہوئے سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں، نے روس اور یوکرین کے درمیان 8 اگست تک امن معاہدہ کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اگلے دس دنوں میں جنگ بندی کی جانب خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی تو امریکہ روس پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرے گا۔ انہوں نے کہا:
"اب امن کا وقت ہے۔ اگر ماسکو نے تعاون نہ کیا تو ہمیں سخت معاشی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔”

امریکہ نے اقوامِ متحدہ میں بھی باضابطہ پیغام پہنچا دیا ہے، جس میں دونوں فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ امریکی سفارت کار جان کیلی نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی اور دیرپا امن کے لیے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں، اور مذاکرات کے دروازے ابھی بھی کھلے ہیں۔

ادھر، ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے حملوں میں اچانک تیزی شاید ٹرمپ کی ڈیڈ لائن کے جواب میں ایک پیغام ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو ابھی تک بیرونی دباؤ کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔

کییف میں حالات نہایت سنگین ہیں۔ اسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں، جبکہ ریسکیو ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں۔ مقامی حکام نے عالمی برادری سے ادویات، طبی سہولیات اور عارضی رہائش کی فوری فراہمی کی اپیل کی ہے۔

جوں جوں ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر لگی ہیں کہ آیا سفارتی کوششیں اس خونی تنازعے کو روک پائیں گی یا یہ جنگ کسی مزید خطرناک مرحلے میں داخل ہونے والی ہے۔

More From Author

پاکستان کی برآمدات 3.2 فیصد اضافے کے ساتھ 31.75 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

کراچی کے فائیو اسٹار ہوٹلز پر ممکنہ خطرہ — امریکی حکام پر عارضی پابندی عائد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے