راولپنڈی: راوت کے علاقے میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں باپ نے مبینہ طور پر اپنی 16 سالہ بیٹی کو صرف اس لیے گولی مار کر قتل کر دیا کیونکہ وہ اپنا ٹک ٹاک اکاؤنٹ ختم کرنے پر آمادہ نہیں تھی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ خاندان نے واقعے کو ابتدا میں خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی، لیکن پولیس تحقیقات نے حقیقت بے نقاب کر دی۔
ہیڈ کانسٹیبل شہباز انجم کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق ملزم اخلاق احمد نے اپنی بیٹی مہک شہزادی کو کئی بار ٹک ٹاک اکاؤنٹ ختم کرنے کا کہا۔ انکار پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جو بظاہر "غیرت” کے نام پر تشدد میں بدل گئی — اور اخلاق نے اشتعال میں آ کر مہک پر فائرنگ کر دی، جو موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔
قتل کے بعد اہل خانہ نے پولیس کو بتایا کہ مہک نے خودکشی کی ہے، تاہم جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور اہل خانہ کے بیانات میں تضاد نے پولیس کو شک میں ڈال دیا۔ بعد ازاں پوسٹ مارٹم رپورٹ نے تصدیق کر دی کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل تھا۔
واقعے کے بعد اخلاق احمد جائے واردات سے فرار ہو گیا تھا، لیکن ایس ایچ او زاہد ظہور کی قیادت میں پولیس ٹیم نے چند ہی گھنٹوں میں اسے گرفتار کر لیا۔ سٹی پولیس آفیسر (CPO) راولپنڈی، خالد حمدانی نے واقعے کا فوری نوٹس لیا اور سپرنٹنڈنٹ پولیس صدر، نبیل کھوکھر کی نگرانی میں مکمل تحقیقات کا حکم دیا۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں اور سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ CPO خالد حمدانی نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ "جو بھی اس جرم میں ملوث پایا گیا، چاہے براہ راست ہو یا بالواسطہ، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا،” انہوں نے کہا۔
یہ واقعہ نہ صرف مقامی آبادی میں غم و غصے کی لہر دوڑا گیا بلکہ ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ "غیرت” کے نام پر قتل جیسے جرائم کو کس طرح روکا جائے، اور خاندانی روایات کے نام پر ظلم کب تک روا رکھا جاتا رہے گا۔