اسلام آباد – 12 جولائی 2025: نئی دہلی کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (IWT) کو معطل کرنے کا سخت مؤقف اختیار کرنے کے باوجود، ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے پاس پاکستان کے دریاؤں کا بہاؤ مکمل طور پر روکنے کا انفراسٹرکچر موجود ہی نہیں۔ اور اگر بھارت ایسی کوئی کوشش کرتا ہے تو یہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان سنگین تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔
الجزیرہ کی شائع کردہ ایک تازہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق، بھارت کا "معاہدے کو معطل رکھنے” کا فیصلہ محض علامتی ہے اور تکنیکی اعتبار سے ناقابلِ عمل نظر آتا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیاسی بیانات کے برعکس، بھارت کے پاس انڈس بیسن کے پانی کو مؤثر طریقے سے روکنے یا موڑنے کی صلاحیت محدود ہے — کم از کم اس وقت تک۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر بھارت معمولی سطح پر بھی دریاؤں کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے تو اس کے پاکستان پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان کی زراعت اور پینے کے پانی کا انحصار انہی دریاؤں پر ہے۔
ایک سینئر تجزیہ کار کے مطابق، "اگر بھارت نے کسی بھی سطح پر پانی کو روکنے کی کوشش کی تو خطے میں کھلی جنگ کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ پاکستان اسے اپنی خودمختاری کے خلاف کھلی جارحیت سمجھے گا۔”
یہ تنازع اس وقت پھر سرخیوں میں آیا جب رواں برس اپریل میں مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں سیاحوں پر حملے میں 26 افراد مارے گئے۔ اس واقعے کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا، جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کر دیا۔
پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی (NSC) نے بھارت کے اس اعلان کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور خبردار کیا کہ "پاکستان کے پانی کو کسی بھی طرح موڑنے کی کوشش کو جنگ کا عمل تصور کیا جائے گا۔”
1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والا 85 صفحات پر مشتمل سندھ طاس معاہدہ دنیا کے کامیاب ترین پانی کی تقسیم کے معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس معاہدے میں پانی کی مقدار کے بجائے مکمل دریا تقسیم کیے گئے تھے — جن میں بھارت کو تین مشرقی دریا (راوی، بیاس، ستلج) اور پاکستان کو تین مغربی دریا (سندھ، جہلم، چناب) دیے گئے۔
کنگز کالج لندن میں جغرافیہ کے سینئر لیکچرر ڈاکٹر ماجد اختر نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہ معاہدہ دراصل "ہائیڈرولک تقسیم” تھی جو برصغیر کی سیاسی تقسیم کے بعد ضروری ہو گئی تھی۔ "یہ معاہدہ پنجاب کے مربوط آبپاشی نظام کی پیچیدگیوں کو حل کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا،” انہوں نے وضاحت کی۔
ڈاکٹر ماجد کا مزید کہنا تھا کہ پانی کی تقسیم کو کشمیر کے تنازع سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ "کشمیر پر علاقائی کنٹرول کا مطلب انڈس بیسن کے پانی پر کنٹرول ہے — جو پاکستان اور بھارت دونوں کی زرعی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔”
پانی کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کا خدشہ طویل عرصے سے پاک-بھارت تعلقات پر منڈلا رہا ہے، لیکن حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر اس نازک مسئلے کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت فوری طور پر معاہدے سے علیحدہ نہیں ہو سکتا، لیکن اس کی جارحانہ پالیسی اور بیانات خطے میں پہلے سے موجود عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
عالمی مبصرین دونوں ممالک پر زور دے رہے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس خطے کے قیمتی آبی وسائل کو سیاسی جنگ کا میدان نہ بننے دیں۔