اسلام آباد – 1 جولائی 2025: پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر، ڈاکٹر رضا امیری مقدم، نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی بھرپور، فعال اور غیر متزلزل حمایت پر گہرے الفاظ میں شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نازک وقت میں پاکستان کی حمایت تمام مسلم ممالک میں سب سے نمایاں رہی۔
پیر کے روز ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان نے صرف علامتی طور پر نہیں بلکہ عملی اور سفارتی محاذ پر ایران کا ساتھ دیا، اور عالمی فورمز پر ایران کے مؤقف کی بھرپور نمائندگی کی۔
انہوں نے کہا، "تمام برادر اسلامی ممالک میں سے پاکستان نے سب سے مضبوط کردار ادا کیا۔ اس کے عوام، حکومت اور میڈیا نے ایران کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا۔ چاہے وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ہو یا IAEA کا بورڈ — پاکستان کی آواز ہمیشہ ہمارے حق میں بلند ہوئی، جس کے لیے ہم تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔”
ڈاکٹر امیری نے مزید بتایا کہ پاکستان کی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع نے بھی ایران سے مکمل تعاون کیا۔ اس کے برعکس، انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس تنازع میں کوئی حمایت نہیں دکھائی، جس کی ایک بڑی وجہ اس کی امریکہ کے ساتھ وابستگی اور اسرائیل سے قریبی تعلقات ہیں۔
ایرانی سفیر نے تنظیم تعاونِ اسلامی (OIC) کی اسرائیلی حملوں کے خلاف سخت اور واضح مذمت کو بھی سراہا، اور کہا کہ اس بار او آئی سی نے نسبتاً بہتر اور مؤثر مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے عرب لیگ اور خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے کردار کی بھی تعریف کی، جو ایران کے ساتھ کھڑے رہے۔
اپنے ملک کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے، ڈاکٹر امیری نے کہا کہ ایران کا ردِعمل صرف اور صرف دفاعی نوعیت کا تھا۔
"یہ جنگ ایران نے شروع نہیں کی — اسرائیل کی اشتعال انگیزیوں کے نتیجے میں ہمیں جوابی کارروائی کرنا پڑی۔ اُنہیں جو نقصان ہوا، وہ شاید کچھ عرصے کے لیے باز رہیں، لیکن اگر انہیں دوبارہ فتح کا امکان نظر آیا تو وہ کسی ہچکچاہٹ کے بغیر جنگ دوبارہ چھیڑ سکتے ہیں،” انہوں نے خبردار کیا۔
عالمی سطح پر سفارتی حمایت پر بات کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے چین، روس، پاکستان، الجزائر اور ترکیہ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اقوام متحدہ میں ایران کا کھل کر ساتھ دیا۔
انہوں نے کہا، "یہ عالمی حمایت، خاص طور پر پاکستان کی، اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ایران تنہا نہیں ہے۔ یہ صرف سفارت کاری کا معاملہ نہیں، بلکہ مشترکہ اقدار، باہمی احترام، اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ وژن کی علامت ہے۔”