کراچی: شہر میں ای چالان سسٹم کے آغاز کے بعد شہریوں کے ذہنوں میں ایک اہم سوال نے جنم لیا ہے اگر کوئی شخص ایسی گاڑی چلا رہا ہو جو کسی اور کے نام پر رجسٹرڈ ہو تو چالان کس کے نام پر جائے گا؟ اس حوالے سے سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لانجرو نے واضح وضاحت پیش کی ہے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ کراچی میں ای چالان سسٹم کا باضابطہ آغاز پیر کے روز ہو چکا ہے۔ اس مقصد کے لیے شہر بھر میں دس ہزار سے زائد کیمرے نصب کیے گئے ہیں جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں مانیٹر کریں گے، جب کہ جدید نائٹ ویژن کیمرے بھی "سیف سٹی پروجیکٹ” کے تحت مختلف مقامات پر لگائے جا رہے ہیں۔
ضیاء الحسن لانجرو نے کہا کہ کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں عام ہیں، اور یہ نیا نظام ٹریفک نظم و ضبط کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ تین تلوار کے مقام پر منعقدہ افتتاحی تقریب کے دوران خود وزیر داخلہ نے سگنل توڑنے کے متعدد واقعات دیکھے، جن میں سے ایک پر فوری ای چالان بھی جاری کیا گیا۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ اگر گاڑی کسی اور کے نام پر رجسٹرڈ ہے تو ای چالان اسی شخص کے نام پر جاری ہوگا جس کے نام پر گاڑی رجسٹرڈ ہے۔ “جب تک گاڑی کی ملکیت سرکاری ریکارڈ میں منتقل نہیں ہوتی، چالان پرانے مالک کے نام پر ہی جائے گا، چاہے گاڑی کوئی اور شخص چلا رہا ہو”، انہوں نے وضاحت کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شہریوں کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کی خاطر 11 اپیل مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں ایس ایس پی اور دو ڈی ایس پی شہریوں کی درخواستوں اور شکایات کا جائزہ لیں گے۔
لانجرو نے کہا کہ بھاری گاڑیوں کے لیے رفتار کی حد 30 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے، جب کہ مختلف سڑکوں پر نئے ٹریفک سائن بورڈ بھی نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ ڈرائیوروں کو بہتر رہنمائی مل سکے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے نوجوان عرفان کی ہلاکت سے متعلق بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے 30 روزہ عدالتی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے جو سیشن جج ساؤتھ کی سربراہی میں ہوگی۔ “اگر ثابت ہوا کہ بچے کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو والدین کی درخواست پر ایف آئی آر درج کی جائے گی، اسی لیے معاملہ جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا گیا ہے”، انہوں نے کہا۔
ای چالان سسٹم کا نفاذ کراچی میں ٹریفک نظم و ضبط کو بہتر بنانے اور شہریوں کو جوابدہ نظام فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔